صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. (60) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْوِتْرِ فِي الِاسْتِطَابَةِ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ لَا أَمْرُ إِيجَابٍ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ استنجا کے لیے طاق ڈھیلے استعمال کرنے کا حکم استحبابی ہے، وجوبی نہیں
حدیث نمبر: Q77
وَأَنَّ مَنِ اسْتَطَابَ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ بِشَفْعٍ لَا بِوِتْرٍ غَيْرُ عَاصٍ فِي فِعْلِهِ، إِذْ تَارِكُ الِاسْتِحْبَابِ غَيْرِ الْإِيجَابِ تَارِكُ فَضِيلَةٍ لَا فَرِيضَةٍ
اور جس شخص نے استنجا کے لیے تین سے زیادہ جفت ڈھیلے استعمال کی، وتر استعمال نہ کیے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ وہ غیر واجب، مستحب اور افضل عمل کو چھوڑنے والا ہے نہ کہ فرضیت کو۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ/حدیث: Q77]
حدیث نمبر: 77
نا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ عِبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ، فَإِنَّ اللَّهَ وُتِرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَمَا تَرَى السَّمَوَاتِ سَبْعًا، وَالأَرْضَ سَبْعًا، وَالطَّوَافَ سَبْعًا" وَذَكَرَ أَشْيَاءَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ڈھیلوں سے استنجا کرے تو اسے چاہیے کہ وتر (ڈھیلے) استعمال کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ کیا تم سات آسمان، سات زمینیں اور طواف (کے) سات (چکر) نہیں دیکھتے۔“ (یعنی یہ سب وتر ہیں) اسی طرح کئ چیزیں ذکر کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح الجامع الصغير: 321، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 77، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1437، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 565، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 512، والبزار فى (مسنده) برقم: 9330، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9803، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7412»