🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

214. ‏(‏212‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي التَّيَمُّمِ لِلْمَجْدُورِ وَالْمَجْرُوحِ، وَإِنْ كَانَ الْمَاءُ مَوْجُودًا إِذَا خَافَ- إِنْ مَاسَّ الْمَاءُ الْبَدَنَ- التَّلَفَ أَوِ الْمَرَضَ أَوِ الْوَجَعَ الْمُؤْلِمَ
چیچک زدہ اور زخمی شخص کے لیے پانی کی موجودگی میں بھی تیمّم کرنے کی رخصت ہے جبکہ وہ بدن پر پانی لگنے سے ہلاک ہونے، مرض بڑھنے یا شدید درد میں مبتلا ہونے سے خوف زدہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 272
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعْهُ، فِي قَوْلِهِ: وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ سورة النساء آية 43 الآيَةَ، قَالَ:" إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقُرُوحُ أَوِ الْجُدَرِيُّ، فَيَجْنُبُ، فَيَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ يَمُوتَ، فَلْيَتَيَمَّمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَرٌ لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «‏‏‏‏وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ» ‏‏‏‏ [ سورة النساء ] اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو کے متعلق مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ اگر مسلمان شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہو جائے یا اُسے پھوڑے پُھنسی نکل آئیں یا وہ چیچک میں مُبتلا ہو جائے اور وہ جنبی ہوجائے تو غسل کرنے کی صورت میں موت سے ڈرے تو وہ تیمّم کرلے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو عطاء بن سائب کے سوا کسی نے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ،/حدیث: 272]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 145، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 272، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 590، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1082، والدارقطني فى (سننه) برقم: 678، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1076»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نا أَبِي ، أَخْبَرَنِي إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَهُمْ؟ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، ثَلاثًا، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ أَوِ التَّيَمُّمَ طَهُورًا" ، شَكَّ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہوگیا تو اُس نے (مسئلہ) پوچھا تو اُسے غسل کرنے کا حُکم دیا گیا۔ (اُس نے غسل کیا) تو وہ فوت ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کیا ہوا تھا، اُنہوں نے اسے قتل کر دیا اللہّ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: اللہّ تعالیٰ نے مٹّی یا تیمّم کو پاک کرنے والا بنایا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں شک ہے (اُنہوں نے مٹّی کہا یا تیمّم) پھر یہ شک ختم ہو گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ،/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1314، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 589، وأبو داود فى (سننه) برقم: 336، 337، والدارمي فى (مسنده) برقم: 779، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 572، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1090، والدارقطني فى (سننه) برقم: 729، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3114»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں