صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
303. (70) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الشَّطْرَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ الْقِبَلُ لَا النِّصْفُ،
اس باب کی دلیل کا بیان کہ اس آیت میں ”شطر“ سے مراد جانب و طرف ہے نصف یا آدھے کے معنی میں نہیں ہے
حدیث نمبر: Q437
وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ قَدْ يُوقِعُ الِاسْمَ الْوَاحِدَ عَلَى الشَّيْئَيْنِ الْمُخْتَلِفَيْنِ، قَدْ يُوقِعُ اسْمَ الشَّطْرِ عَلَى النِّصْفِ وَعَلَى الْقِبَلِ أَيِ الْجِهَةِ.
اور یہ بات اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب ایک ہی اسم کو دو مختلف چیزوں کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: Q437]
حدیث نمبر: 437
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قَالَ الْبَرَاءُ: وَالشَّطْرُ فِينَا قِبَلَهُ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بیت المقدس کی طرف مُنہ کرکے سولہ ماہ تک نماز پڑھی، پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک «شطر» سے مراد طرف و جانب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 40، 399، 4486، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 525، وابن الجارود فى "المنتقى"، 184، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 428، 433، 437، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1716، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 487، والترمذي فى (جامعه) برقم: 340، 2962، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1010، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 223، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2225، 2226، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1072، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18790»
حدیث نمبر: 438
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَنُلْزِمُكُمُوهَا مِنْ شَطْرِ أَنْفُسِنَا: مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِنَا" قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ التَّفْسِيرِ
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (یہ آیت) اس طرح پڑھی، کیا ہم تمیں اس بات پر اپنی طرف سے مجبور کر سکتے ہیں۔ میں نے اس پہلو کو کتاب التفسیر میں مکمّل طور پر بیان کر دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 438، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1085»