🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

305. ‏(‏72‏)‏ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْخُرُوجِ إِلَى الصَّلَاةِ
نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے دعا پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الإِسْنَادِ شَيْءٌ، فَإِنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ أَقِفْ هَلْ سَمِعَ حَبِيبٌ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَمْ لا، ثُمَّ نَظَرْتُ، فَإِذَا أَبُو عَوَانَةَ رَوَاهُ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ (ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ چنانچہ (صبح کے وقت) مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے ہوئے نماز کے لئے چل پڑے «‏‏‏‏اللَٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِىْ نُورًا, وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِيْ نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَمَامِيْ نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ عَظِّمْ لِىْ نُوْرًا» ‏‏‏‏ اے اللہ، میرے دل میں نور پیدا فرمادے، اور میری زبان میں نور کردے، اور میری سماعت میں نور کردے، اور میری بصارت میں نور فرمادے، میرے آگے نور کردے، میرے اوپر نور کردے، میرے نیچے نور کردے۔ اے اﷲ، میرے لئے نور کو عظیم کردے۔ امام ابوبکر رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ اس اسناد کے متعلق میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ کیونکہ حبیب بن ابی ثابت مدلس ہے اور مجھے علم نہیں ہو سکا کہ آیا حبیب نے یہ روایت محمد بن علی سے سنی ہے یا نہیں؟ پھر میں نے (روایات میں) غور و فکر کیا تو (معلوم ہوا کہ) ابوعوانہ یہ روایت حصین کے واسطے سے حبیب بن ابی ثابت سے بیان کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ «‏‏‏‏حدثني محمد بن علي» ‏‏‏‏ مجھے محمد بن علی نے حدیث بیان کی (یعنی مدلس نے اپنے سماع کی صراحت کردی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، نا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی، پھر پوری حدیث بیان کی اس حدیث کی سند میں محمد بن علی نے اپنے سماع کی وضاحت کر دی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں