🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. بَابُ بَيْعَةِ النِّسَاءِ:
باب: عورتوں سے بیعت لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7213
رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
‏‏‏‏ اس کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: Q7213]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7213
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسٍ:" تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ"، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو ابوادریس خولانی نے خبر دی، انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم مجلس میں موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پس جو کوئی تم میں سے اس وعدے کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ کے یہاں اسے ملے گا اور جو کوئی ان کاموں میں سے کسی برے کام کو کرے گا اس کی سزا اسے دنیا میں ہی مل جائے گی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو گا اور جو کوئی ان میں سے کسی برائی کا کام کرے گا اور اللہ اسے چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ چاہے تو اس کی سزا دے اور چاہے اسے معاف کر دے۔ چنانچہ ہم نے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ بیعت اقرار کو کہتے ہیں جو خلیفہ اسلام کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کیا جائے یا پھر کسی نیک صالح انسان کے ہاتھ پر ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7213]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا جبکہ ہم ایک مجلس میں موجود تھے: تم میری اس شرط پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پر ایسا کوئی بہتان نہیں لگاؤ گے جو تم نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے گھڑا ہو گا اور اچھے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس کسی نے اس عہد کو پورا کیا اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان کاموں میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو گا۔ اور جس نے ان میں سے کوئی برا کام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے۔ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس شرط پر بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7213]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7214
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُبَايِعُ النِّسَاءَ بِالْكَلَامِ بِهَذِهِ الْآيَةِ: لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12"، قَالَتْ: وَمَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا".
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے زبانی اس آیت کے احکام کی بیعت لیتے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی آخر آیت تک۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، سوا اس عورت کے جو آپ کی لونڈی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7214]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے زبانی طور پر اس آیت ﴿أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة الممتحنة: 12] کے احکام پر بیعت لیتے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ نیز انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو کبھی کسی عورت کے ہاتھ نے نہیں چھوا، سوائے اس عورت کے جس کے آپ مالک تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7215
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا: أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12"، وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ، فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ مِنَّا يَدَهَا، فَقَالَتْ: فُلَانَةُ أَسْعَدَتْنِي، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ، فَمَا وَفَتِ امْرَأَةٌ إِلَّا أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ، أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے میرے سامنے سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت پڑھی «أن لا يشركن بالله شيئا‏» یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی آخر تک۔ اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ سے منع کیا پھر ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا کہ فلاں عورت نے کسی نوحہ میں میری مدد کی تھی (میرے ساتھ مل کر نوحہ کیا تھا) اور میں اسے اس کا بدلہ دینا چاہتی ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا، پھر وہ گئیں اور واپس آئیں (میرے ساتھ بیعت کرنے والی عورتوں میں سے) کسی عورت نے اس بیعت کو پورا نہیں کیا، سوا ام سلیم اور ام العلاء اور معاذ رضی اللہ عنہم کی بیوی ابوسبرہ کی بیٹی کے یا ابوسبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی کے اور سب عورتوں نے احکام بیعت کو پورے طور پر ادا نہ کر کے بیعت کو نہیں نبھایا۔ غفر اللہ لھن اجمعین۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7215]
حضرت ام سلیم اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ نے ہم پر یہ آیت پڑھی: ﴿أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة الممتحنة: 12] وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور آپ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا تو ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور کہا: فلاں عورت نے (نوحہ کرنے میں) میری مدد کی تھی اور میں اسے اس کا بدلہ دینا چاہتی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ کہا تو وہ گئی پھر واپس آئی۔ (میرے ساتھ بیعت کرنے والی عورتوں میں سے) کسی عورت نے اس بیعت کو پورا نہ کیا سوائے ام سلیم، ام علاء، معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی، بنتِ ابوسبرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں