صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
607. (374) بَابُ نَفْيِ قَبُولِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ الْغَاضِبَةِ لِزَوْجِهَا، وَصَلَاةِ الْعَبْدِ الْآبِقِ
شوہر کو ناراض کرنے والی عورت اور بھگوڑے غلام کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 940
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلاثَةٌ لا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلاةً وَلا يَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ: الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ، فَيَضَعُ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى يَرْضَى، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ"
سیدنا جابر بن عبدﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین شخص ایسے ہیں کہ اُن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ُان کے نیک عمل اوپر چڑھتے ہیں، بھگوڑا غلام حتیٰ کہ وہ اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ آئے اور اپنا ہاتھ اُن کے ہاتھوں میں دے دے (یعنی اُن کا فرماں بردار بن جائے) اور وہ عورت جس کا خاوند اُس پر ناراض ہو حتیٰ کہ وہ راضی ہو جائے، اور نشے میں مد ہوش شخص حتیٰ کہ اُسے ہوش آجائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمَكْرُوهَةِ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي قَدْ نُهِيَ عَنْهَا الْمُصَلِّي/حدیث: 940]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 941
نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَدَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ يُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ"
سیدنا جریر رضی اﷲ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب غلام فرار ہو جائے تو اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی، حتیٰ کہ وہ اپنے آقاؤں کے پاس واپس آجائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمَكْرُوهَةِ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي قَدْ نُهِيَ عَنْهَا الْمُصَلِّي/حدیث: 941]
تخریج الحدیث: