🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

793. (560) بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الْمُضْطَجِعِ
لیٹ کر نماز پڑھنے والے کی کیفیت کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1250
خِلَافَ مَا يَتَوَهَّمُهُ الْعَامَّةُ إِذِ الْعَامَّةُ إِنَّمَا تَأْمُرُ الْمُصَلِّي مُضْطَجِعًا أَنْ يُصَلِّيَ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْمُصَلِّي مُضْطَجِعًا أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبٍ
عوام کے خیال کے برخلاف، کیونکہ عوام لیٹ کر نماز پڑھنے والے پر چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حُکم دیتے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیٹ کر نماز پڑھنے والے کو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھںے کا حُکم دیا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا/حدیث: Q1250]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ بِي الْبَاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَجَالِسًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ" . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی تو میں نے نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کی کیفیت کے متعلق پو چھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر تمہیں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اگر تمہیں اس کے بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل (لیٹ کر) پڑھ لو) امام ابن مبارک رحمه الله کی روایت میں بواسیر کے لفظ آئے ہیں (معنی دونوں کے ایک ہیں۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1115، 1116، 1117، وابن الجارود فى "المنتقى"، 254، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 979، 1236، 1249، 1250، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2513، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1190، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1659، وأبو داود فى (سننه) برقم: 951، 952، والترمذي فى (جامعه) برقم: 371، 372، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1223، 1231، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3719، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1425، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20133»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں