صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهْوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور وہی غالب ہے، حکمت والا“۔
حدیث نمبر: Q7383
وَمَنْ حَلَفَ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ، وَقَالَ أَنَسٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَقُولُ جَهَنَّمُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَكَ ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَقَالَ أَيُّوبُ وَعِزَّتِكَ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ.
اور فرمایا ”اے رسول! تیرا مالک عزت والا ہے، ان باتوں سے پاک ہے جو یہ کافر بناتے ہیں۔“ اور فرمایا ”عزت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے۔“ اور جو شخص اللہ کی عزت اور اس کی دوسری صفات کی قسم کھاتے تو وہ قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو جہنم کہے گی «قط قط» کہ بس بس، تیری عزت کی قسم! اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا جو سب سے آخری دوزخی ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے اور کہے گا: اے رب! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، تیری عزت کی قسم اس کے سوا اور میں کچھ نہیں مانگوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عزوجل کہے گا کہ تمہارے لیے یہ ہے اور اس سے دس گنا“ اور ایوب علیہ السلام نے دعا کی ”اور تیری عزت کی قسم! کیا میں تیری عنایت اور سرفرازی سے کبھی بےپروا ہو سکتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7383]
حدیث نمبر: 7383
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے ”تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی معبود تیرے سوا نہیں، تیری ایسی ذات ہے جسے موت نہیں اور جن و انس فنا ہو جائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7383]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» ”اے اللہ! میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ تجھے موت نہیں آئے گی جبکہ جن وانس مر جائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7383]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7384
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزَالُ يُلْقَى فِي النَّارِ". ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَعَنْ مُعْتَمِرٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزَالُ يُلْقَى فِيهَا، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ، فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ تَقُولُ: قَدْ قَدْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلَا تَزَالُ الْجَنَّةُ تَفْضُلُ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا، فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ".
ہم سے عبداللہ بن ابی السود نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے، کہا ہم شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔ (تیسری سند) اور خلیفہ بن خیاط نے اس حدیث کو معتمر بن سلیمان سے روایت کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوزخیوں کو برابر دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہے جائے گی کہ کیا ابھی اور ہے۔ یہاں تک کہ رب العالمین اس پر اپنا قدم رکھ دے گا اور پھر اس کا بعض بعض سے سمٹ جائے گا اور اس وقت وہ کہے گی کہ بس بس ‘ تیری عزت اور کرم کی قسم! اور جنت میں جگہ باقی رہ جائے گی۔ یہاں تک کہ اللہ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا کر دے گا اور وہ لوگ جنت کے باقی حصے میں رہیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7384]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔“ دوسری سند سے اس روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”لوگوں کو مسلسل دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جہنم کہتی رہے گی: (میرے اندر ڈالنے کے لیے) «هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟» ”کچھ اور ہے؟“ یہاں تک کہ اللہ رب العالمین اس میں اپنا قدم رکھے گا تو اس کا ایک حصہ دوسرے سے مل جائے گا، اس وقت وہ کہے گی: «بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ قَطْ قَطْ» ”تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! بس، بس،“ اور جنت میں بھی جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے (اس وقت) کوئی مخلوق پیدا کرے گا جس سے جنت کے باقی ماندہ حصے کو بھرا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7384]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة