صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
992. (41) بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِمَامَةِ الزَّائِرِ
ملاقات کے لئے آنے والے شخص کی امامت ممنوع ہے
حدیث نمبر: 1520
أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ رَجُلٌ مِنَّا، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، قَالَ: أَتَانَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، قَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا زَارَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ" . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ:" لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ، حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لا أَتَقَدَّمُ"
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ اُن سے عرض کی گئی کہ آگے بڑھیں (اور جماعت کرا دیں)۔ اُنہوں نے فرمایا کہ تم ہی میں سے کسی شخص کو جماعت کرانی چاہیے۔ جب اُنہوں نے نماز ادا کر لی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کسی قوم کی ملاقات کے لئے جائے تو وہ اُنہیں امامت نہ کرائے، اُن ہی میں سے کسی شخص کو اُن کی امامت کرانی چاہئے۔“ جناب وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھے (اور جماعت کرائے) میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ الْإِمَامَةِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ مُخْتَصَرٌ مِنْ كِتَابِ الْمُسْنَدِ/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1520، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 786، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 864، وأبو داود فى (سننه) برقم: 596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 356، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5407، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15842»