🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

991. (40) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إِمَامَةِ الْمَرْءِ مَنْ يَكْرَهُ إِمَامَتَهُ
جس شخص کی امامت کو ناپسند کیا جاتا ہو، اُس کے لئے امامت کرانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1518
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ لا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلاةٌ، وَلا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ، وَلا تُجَاوِزُ رُءُوسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يُؤْمَرْ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْلِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ"
عطاء بن دینار ہذلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی نماز قبول نہیں ہوتی، نہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ وہ ان کے سروں سے اوپر اُٹھتی ہے۔ وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ اُسے ناپسند کرتے ہوں۔ وہ شخص جو کہے بغیر جنازہ پڑھاتا ہے۔ وہ عورت جسے اُس کا شوہر رات کو بلاتا ہے تو وہ انکار کر دیتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ الْإِمَامَةِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ مُخْتَصَرٌ مِنْ كِتَابِ الْمُسْنَدِ/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1518، وانفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1519
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَرْفَعُهُ يَعْنِي: مِثْلَ هَذَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمْلَيْتُ الْجُزْءَ الأَوَّلَ وَهُوَ مُرْسَلٌ ؛ لأَنَّ حَدِيثَ أَنَسٍ الَّذِي بَعْدَهُ حَدَّثَنَاهُ عِيسَى فِي عَقِبِهِ، يَعْنِي بِمِثْلِهِ، لَوْلا هَذَا لَمَا كُنْتُ أُخَرِّجُ الْخَبَرَ الْمُرْسَلَ فِي هَذَا الْكِتَابِ
عمرو بن ولید سیدنا انس بن مالک رضی االلہ عنہ سے مذکورہ بالا جیسی روایت بیان کرتے ہیں جسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث کا پہلا حصہ لکھوا دیا ہے حالانکہ وہ مرسل ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اسی کے مثل ہے جو ہمیں عیسٰی نے بیان کی ہے، اگر یہ روایت موجود نہ ہوتی تو میں اپنی اس کتاب میں مرسل روایت بیان نہ کرتا۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ الْإِمَامَةِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ مُخْتَصَرٌ مِنْ كِتَابِ الْمُسْنَدِ/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1519، والترمذي فى (جامعه) برقم: 358، والبزار فى (مسنده) برقم: 6707»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں