صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
991. (40) باب الزجر عن إمامة المرء من يكره إمامته
جس شخص کی امامت کو ناپسند کیا جاتا ہو، اُس کے لئے امامت کرانا منع ہے
حدیث نمبر: 1518
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ لا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلاةٌ، وَلا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ، وَلا تُجَاوِزُ رُءُوسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يُؤْمَرْ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْلِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ"
عطاء بن دینار ہذلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین افراد کی نماز قبول نہیں ہوتی، نہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ وہ ان کے سروں سے اوپر اُٹھتی ہے۔ وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ اُسے ناپسند کرتے ہوں۔ وہ شخص جو کہے بغیر جنازہ پڑھاتا ہے۔ وہ عورت جسے اُس کا شوہر رات کو بلاتا ہے تو وہ انکار کر دیتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
سعيد بن مقلاص الخزاعي ← عطاء بن دينار الهذلي