صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث نمبر: 1748
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , فَعَرَّضَ بِهِ , فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ؟! قَالَ عُثْمَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ. قَالَ: الْوُضُوءُ أَيْضًا؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ" ؟. فِي خَبَرِ الْوَلِيدِ: يَخْطُبُ النَّاسَ. وَلَمْ يَقُلْ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران جب کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا کنایہ کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اذان کے بعد تاخیر سے آتے ہیں؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے امیر المؤمنین، جب میں نے اذان سنی تو صرف وضو ہی کیا ہے (اور کوئی کام نہیں کیا) پھر مسجد میں آگیا ہوں ـ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف وضو ہی کرکے آئے ہو ـ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اُسے چاہیے کہ غسل کرے“ جناب ولید کی روایت میں ہے کہ وہ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ کہ یہ الفاظ بیان نہیں کیے کہ ”جمعہ کے دن۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 878، 882، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 845، ومالك فى (الموطأ) برقم: 336، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1748، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1230، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 494، 495 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1580، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1422، وأحمد فى (مسنده) برقم: 92»