🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

خطبہ جمعہ میں بارش کی دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اُٹھانے کی کیفیت کی بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
نا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، نا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ أَوْ عِنْدَ شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلا فِي الاسْتِسْقَاءِ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی دعا میں یا کسی دعا کے کرتے وقت ہاتھ نہیں اُٹھا تے تھے سوائے بارش کی دعا کے۔ آپ (بارش کی دعا کرتے وقت) اس قدر ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگتی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، 1412، 1417، 1423، 1788، 1789، 1791، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ فِي خَبَرِ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ: لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلا فِي الاسْتِسْقَاءِ، يُرِيدُ إِلا عِنْدَ مَسْأَلَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُمْ , وَعِنْدَ مَسْأَلَتِهِ بِحَبْسِ الْمَطَرِ عَنْهُمْ. وَقَدْ أَوْقَعَ اسْمَ الاسْتِسْقَاءِ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ جَمِيعًا , أَحَدُهُمَا: مَسْأَلَتُهُ أَنْ يَسْقِيَهُمْ. وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنْ يَحْبِسَ الْمَطَرُ عَنْهُمْ. وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا تَأَوَّلْتُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدْ خْبَرَ فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْهُ , أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الْخُطْبَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ سَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُغِيثَهُمْ , وَكَذَلِكَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ قَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا" , فَهَذِهِ اللَّفْظَةُ أَيْضًا اسْتِسْقَاءٌ إِلا أَنَّهُ سَأَلَ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَ الْمَطَرُ عَنِ الْمَنَازِلِ وَالْبُيُوتِ , وَتَكُونَ السُّقْيَا عَلَى الْجِبَالِ وَالآكَامِ وَالأَوْدِيَةِ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ شریک بن عبداللہ کی سیدنا انس سے روایت میں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ـ میں اس سے پہلے سیدنا قتادہ کی سیدنا انس رضی اللہ عنہما سے روایت املا کرا چکا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کے علاوہ اپنی کسی دعا میں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے۔ ان کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے وقت اور بارش رُکنے کی دعا کرتے وقت اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے۔ اُنہوں نے دونوں معنوں کے لئے استسقاء کا اسم استعمال کیا ہے، جبکہ ایک مرتبہ بارش طلب کرنے کی دعا کی ہے اور دوسری مرتبہ بارش رکنے کی دعا کی ہے۔ میری اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جسے شریک بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے دوران اپنے ہاتھ بلند کیے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی تھی۔ اسی طرح آپ نے اُس وقت بھی ہاتھ اٹھائے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی «‏‏‏‏اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا» ‏‏‏‏ اے اللہ، ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر بارش نہ برسا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، 1412، 1417، 1423، 1788، 1789، 1791، 1792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں