صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر سے پہلے کی اذان روزے دار کو اس کے کھانے، پینے اور جماع کرنے سے نہیں روکتی۔ عوام کے خیال کے بر خلاف جو اسے روکنے والی خیال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ بلال (رضی اللہ عنہ) رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم کھاتے اور پیتے رہو حتّیٰ کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1931]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔