صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کا بیان کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل، پسندیدہ اور عدل پر مبنی روزے ہیں
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَمْلَى مِنْ أَصْلِهِ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْفَيَّاضِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ صَوْمُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور روزوں کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ہر مہینے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجر بھی ملے گا۔ میں نے عرض کی کہ میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر مہینے دو دن روزہ رکھا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجر و ثواب بھی ملے گا۔“ میں نے عرض کیا کہ بلاشبہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا ثواب بھی مل جائے گا۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے زیادہ کی ہمت و طاقت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار روزے رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا ثواب بھی ملے گا۔“ انہوں نے کہا کہ بیشک میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت و قوت پاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پسندیدہ روزے داؤد عليه السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ داؤد عليه السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھا کرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عمدہ اور معتدل روزے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2107، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
افضل ترین روزے افضل ترین روزے حضرت داؤد عليه السلام کے روزے ہیں۔ میں نے ان روایات کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي: 770، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2108»