صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ الزَّكَاةُ مِنَ الإِسْلاَمِ
باب: زکوٰۃ دینا اسلام میں داخل ہے۔
حدیث نمبر: Q46
وَقَوْلُهُ: {وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ}:
اور اللہ پاک نے فرمایا ” حالانکہ ان کافروں کو یہی حکم دیا گیا کہ خالص اللہ ہی کی بندگی کی نیت سے ایک طرف ہو کر اسی اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی پختہ دین ہے “۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: Q46]
حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا ابوسہیل بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ (مالک بن ابی عامر) سے، انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ سے وہ کہتے تھے نجد والوں میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سر پریشان یعنی بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آن پہنچا، جب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے، اس نے کہا بس اس کے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل پڑھے (تو اور بات ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل روزے رکھے (تو اور بات ہے) طلحہ نے کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا۔ وہ کہنے لگا کہ بس اور کوئی صدقہ مجھ پر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے (تو اور بات ہے) راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا۔ یوں کہتا جاتا تھا، قسم اللہ کی میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 46]
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اہل نجد سے ایک شخص پراگندہ مو (بال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سن رہے تھے مگر یہ نہ سمجھتے تھے کہ کیا کہتا ہے تا آنکہ وہ نزدیک آ پہنچا، تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔“ اس نے کہا: ان کے علاوہ (بھی) مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے پڑھے۔“ (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ اس نے عرض کیا: اور تو کوئی روزہ مجھ پر فرض نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے رکھے۔“ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاۃ کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا: مجھ پر اس کے علاوہ (کوئی اور صدقہ بھی) فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے دے۔“ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر وہ شخص یہ کہتا ہوا پیچھے ہٹا، اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ یا کم نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة