صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ:
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q44
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَزِدْنَاهُمْ هُدًى}، {وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا} وَقَالَ: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} فَإِذَا تَرَكَ شَيْئًا مِنَ الْكَمَالِ فَهُوَ نَاقِصٌ.
اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی (تفسیر) کا بیان ” اور ہم نے انہیں ہدایت میں زیادتی دی “ اور دوسری آیت کی تفسیر میں کہ ” اور اہل ایمان کا ایمان زیادہ ہو جائے “ پھر یہ بھی فرمایا ” آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا “ کیونکہ جب کمال میں سے کچھ باقی رہ جائے تو اسی کو کمی کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: Q44]
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ"، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ أَبَانُ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِيمَانٍ مَكَانَ مِنْ خَيْرٍ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے قتادہ نے انس کے واسطے سے نقل کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «لا إله إلا الله» کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی (ایمان) ہے تو وہ (ایک نہ ایک دن) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص (بھی) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ (بھی) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے «خير» کی جگہ «ايمان» کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 44]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا اور اس کے دل میں ایک جَو کے برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر بھلائی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے ضرور نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ بھی دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔“ امام ابو عبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ «خَيْرٍ» کی جگہ «إِيمَانٍ» کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ، قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟ قَالَ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ".
ہم سے اس حدیث کو حسن بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے جعفر بن عون سے سنا، وہ ابوالعمیس سے بیان کرتے ہیں، انہیں قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب کے واسطے سے خبر دی۔ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۃ المائدہ کی یہ آیت کہ) ” آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا “ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 45]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک ایسی آیت ہے جسے تم پڑھتے رہتے ہو، اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن ٹھہرا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ یہودی بولا یہ آیت: ﴿آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور دین اسلام کو تمہارے لیے پسند کر لیا۔﴾ [سورة المائدة: 3] حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس دن اور اس مقام کو جانتے ہیں جس میں یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، یہ آیت جمعے کے دن اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں کھڑے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة