🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1786. (45) بَابُ الزَّجْرِ عَنِ التَّعْرِيسِ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ
رات کے آخری پہر آرام کے لئے بڑے راستوں پر اُترنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2556
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهَا طَرِيقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات کے آخری حصّے میں آرام کے لئے اُترو تو راستے پر مت آرام کرو کیونکہ یہ چوپائیوں کا راستہ اور کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1926، 1926، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2550، 2556، 2557، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2703، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10449، 10450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8558»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2557
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِمِثْلِهِ وَقَالَ:" إِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهُ مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات کے وقت آرام کرنے کے لئے اُترو تو راستے پر مت بیٹھو کیونکہ رات کے وقت راستہ زہریلے کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1926، 1926، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2550، 2556، 2557، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2703، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10449، 10450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8558»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں