🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1903. ‏(‏162‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السُّنَّةَ قَدْ كَانَ يَسُنُّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِلَّةٍ حَادِثَةٍ فَتَزُولُ الْعِلَّةُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عمل کسی خالص علت کے پیش آںے پر سرانجام دیتے ہیں،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2708
وَتَبْقَى السُّنَّةُ قَائِمَةً إِلَى الْأَبَدِ إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَمَلَ فِي الِابْتِدَاءِ وَاضْطَبَعَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ وَقُوَّةَ أَصْحَابِهِ فَبَقِيَ الِاضْطِبَاعُ وَالرَّمَلُ سُنَّتَيْنِ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ
پھر وہ علت ختم ہوجاتی ہے لیکن سنّت نبوی تاقیامت باقی رہتی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں مشرکوں کو اپنی اور اپنے صحابہ کی قوت و طاقت دکھانے کے لئے رمل اور اضطباع کیا تھا، (پھر مکّہ مکرّمہ میں مشرک ختم ہوگئے) لیکن رمل اور اضطباع کی دونوں سنّتیں تاقیامت باقی رہیںگی [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: Q2708]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2708
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: " فِيمَ الرَّمَلانُ الآنَ، وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الإِسْلامَ، وَنَفي الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَمَعَ ذَلِكَ لا نَتْرُكُ شَيْئًا كُنَّا نَصْنَعُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
حضرت زید بن اسلم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اب رمل کرنا اور کندھوں کو ننگا کرنا کس لئے ہے جبکہ اللہ تعالی نے اسلام کوقوت و طاقت دیدی ہے اور وہ چار سُو پھیل چکا ہے اور کفر اور کافر مٹ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑیں گے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2708]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2708، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1887، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2952، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9350، وأحمد فى (مسنده) برقم: 323»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں