🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. باب رَفْعِ الأَمَانَةِ وَالإِيمَانِ مِنْ بَعْضِ الْقُلُوبِ وَعَرْضِ الْفِتَنِ عَلَى الْقُلُوبِ:
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 143 ترقیم شاملہ: -- 367
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الأَمَانَةِ، قَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا، يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ، مَا أَظْرَفَهُ، مَا أَعْقَلَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا ".
ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائیں، ایک تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے ہمیں بتایا: امانت لوگوں کے دلوں کے نہاں خانے میں اتری، پھر قرآن اترا، انہوں نے قرآن سے سیکھا اور سنت سے جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امانت اٹھا لیے جانے کے بارے میں بتایا، آپ نے فرمایا: آدمی ایک بار سوئے گا تو اس کے دل میں امانت سمیٹ لی جائے گی اور اس کا نشان پھیکے رنگ کی طرح رہ جائے گا، پھر وہ ایک نیند لے گا تو (بقیہ) امانت اس کے دل سے سمیٹ لی جائے گی اور اس کا نشان ایک آبلے کی طرح رہ جائے گا جیسے تم انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکاؤ تو (وہ حصہ) پھول جاتا ہے اور تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر آپ نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکایا۔ پھر لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی بھی پوری طرح امانت کی ادائیگی نہ کرے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا: فلاں خاندان میں ایک آدمی امانت دار ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ کسی آدمی کے بارے میں کہا جائے گا، وہ کس قدر مضبوط ہے، کتنا لائق ہے، کیسا عقل مند ہے! جبکہ اس کے دل میں رائے کے دانے کے برابر (بھی) ایمان نہ ہو گا۔ (پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:) مجھ پر ایک دور گزرا، مجھے پروا نہیں تھی کہ میں تم سے کس کے ساتھ لین دین کروں، اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین اس کو میرے پاس واپس لے آئے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہے تو اس کا حاکم اس کو میرے پاس لے آئے گا لیکن آج میں فلاں اور فلاں کے سوا تم میں سے کسی کے ساتھ لین دین نہیں کر سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 367]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں، ایک تو میں دیکھ چکا ہوں (پوری ہو چکی ہے) اور دوسری کا میں منتظر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر قرآن اترا تو انہوں نے قرآن سے جانا اور سنت سے جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری حدیث) امانت کے اٹھنے کے بارے میں بیان فرمائی، فرمایا: ایک آدمی تھوڑی دیر سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کر لی جائے گی، اور اس کا نشان ایک پھیکے رنگ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر وہ کچھ وقت کے لیے سوئے گا تو امانت اس کے دل سے قبض کر لی جائے گی، اور اس کا نشان آبلے کی طرح رہ جائے گا، جیسا کہ تم انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکا دو تو اس پر آبلہ بن جائے، تو تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو اور اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا دیا۔ (پھر فرمایا:) تو پھر لوگ خرید و فروخت کریں گے، تو ان میں سے کوئی ایسا نہیں ملے گا جو امانت ادا کرے یہاں تک کہ لوگ کہیں گے: فلاں خاندان میں ایک امانت دار آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک آدمی کے بارے میں کہا جائے گا وہ کس قدر بیدار مغز، خوش مزاج اور عقل مند ہے، اور اس کی تعریف و توصیف کریں گے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے بقدر ایمان نہیں ہو گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک دور گزر چکا ہے، کہ مجھے کسی کے ساتھ لین دین کرنے میں کوئی پروا نہیں ہوتی تھی؛ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میرے ساتھ خیانت کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو اس کا حاکم اس کو مجھے نقصان پہنچانے سے روکتا، لیکن آج میں تمہارے ساتھ فلاں فلاں کے سوا کسی سے معاملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 143
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى الرقاق، باب: رفع الامانة برقم (6132) وفي ((الفتن)) باب: اذا بقى فى حثالة من الناس برقم (6675) وفى الاعتصام بالكتاب والسنة، باب: الاقتداء بسنن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم برقم (6848) مختصراً- والترمذی فی ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء فى رفع الامانة برقم (2179) وقال: حديث حسن صحيح۔ وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: ذهاب الامانة برقم (4053) انظر ((التحفة)) برقم (3328)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 143 ترقیم شاملہ: -- 368
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(اعمش کے دوسرے شاگردوں) عبداللہ بن نمیر، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے بھی اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 368]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں (نمیر رحمہ اللہ، وکیع رحمہ اللہ اور عیسیٰ رحمہ اللہ سے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 143
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (365)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ؟ فَقَالَ قَوْمٌ: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، فَقَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا، الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ، الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا، لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا، إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ "، قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ: أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا، بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ، قَالَ عُمَرُ: أَكَسْرًا، لَا أَبَا لَكَ، فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ؟ قُلْتُ: لَا، بَلْ يُكْسَرُ، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ، قَالَ أَبُو خَالِدٍ: فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: يَا أَبَا مَالِكٍ، مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا؟ قَالَ: مَنْكُوسًا.
ابوخالد سلیمان بن حیان نے سعد بن طارق سے حدیث سنائی، انہوں نے ربعی سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے یہ ذکر سنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اس کے اہل، مال اور پڑوسی (کے بارے) میں پیش آتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس فتنے (اہل، مال اور پڑوسی کے متعلق امور میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فتنے کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے، تیرا باپ اللہ ہی کا (بندہ) ہے (کہ اسے تم سا بیٹا عطا ہوا۔) حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: فتنے دلوں پر ڈالے جائیں گے، چٹائی (کی بنتی) کی طرح تنکا تنکا (ایک ایک) کر کے اور جو دل ان سے سیراب کر دیا گیا (اس نے ان کو قبول کر لیا اور اپنے اندر بسا لیا)، اس میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جائے گا اور جس دل میں ان کو رد کر دیا اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جائیں گے: (ایک دل) سفید، چکنے پتھر کے مانند ہو جائے گا، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے، کوئی فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرا کالا مٹیالے رنگ کا اوندھے لوٹے کے مانند (جس پر پانی کی بوند بھی نہیں ٹکتی) جو نہ کسی نیکی کو پہچانے گا اور نہ کسی برائی سے انکار کرے گا، سوائے اس بات کے جس کی خواہش سے وہ (دل) لبریز ہو گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے، قریب ہے کہ اسے توڑ دیا جائے؟ اگر اسے کھول دیا گیا تو ممکن ہے کہ اسے دوبارہ بند کیا جا سکے۔ میں نے کہا: نہیں! بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ اور میں نے انہیں بتا دیا: وہ دروازہ آدمی ہے جسے قتل کر دیا جائے گا یا فوت ہو جائے گا۔ (حذیفہ نے کہا: میں نے انہیں) حدیث (سنائی کوئی)، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں۔ ابوخالد نے کہا: میں نے سعد سے پوچھا: ابومالک! «أسود مرباداً» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: کالے رنگ میں شدید سفیدی (مٹیالے رنگ) کہا: میں نے پوچھا: «الكوز مجخياً» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: الٹا کیا ہوا کوزہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 369]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے تو انہوں (عمر رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کا ذکر سنا ہے؟ تو کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے سنا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اپنے اہل، مال اور پڑوسی کے سلسلے میں پیش آتی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس فتنہ (آزمائش و ابتلا) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فتنہ کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح موجزن ہو گا؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے، تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا باپ اللہ کا کرشمہ ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنے لوگوں کے دلوں پر چٹائی کے تنکوں کی طرح ایک ایک کر کے پیش کیے جائیں گے، تو جس دل میں وہ پیوستہ ہو گئے اس میں سیاہ نقطہ پڑ جائے گا، اور جس دل نے ان کو قبول نہ کیا، اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو قسم کے ہو جائیں گے۔ چٹان کی طرح سفید، تو جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے ایسے دلوں کو کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرے اوندھے لوٹے کی طرح خاکی سیاہ جو نہ کسی معروف کو پہچانیں گے اور نہ کسی منکر کا انکار کریں گے، مگر جس چیز سے ان کی خواہش پوری ہو۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے جو جلد ٹوٹ جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا توڑ دیا جائے گا؟ تیرا باپ نہ ہو! اگر وہ کھول دیا جائے تو بند کیا جا سکتا تھا۔ میں نے کہا: کھولا نہیں، توڑا جائے گا۔ اور میں نے کہا: وہ دروازہ ایک آدمی ہے جو قتل کیا جائے گا یا مرے گا۔ صاف بات ہے پہیلی یا معمہ نہیں ہے۔ ابو خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعد رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو مالک! «أَسْوَدُ مُرْبَادًّا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: سیاہی میں بہت سفیدی۔ میں نے پوچھا: «الْكُوزُ مُجَخِّيًا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: الٹا ہوا (پیالہ)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3319)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 370
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا، فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ، لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكٍ لِقَوْلِهِ: مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا.
مروان فزاری نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حضرت ربعی سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: جب حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس سے آئے تو بیٹھ کر ہمیں باتیں سنانے لگے اور کہا: کل جب میں امیر المومنین کی مجلس میں بیٹھا تو انہوں نے اپنے رفقاء سے پوچھا: تم میں سے کس نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد رکھا ہوا ہے؟ ...... پھر (مروان فزاری نے) ابوخالد کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی لیکن «مرباداً مجخياً» سے متعلق ابومالک کی تفسیر ذکر نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 370]
ابو مالک اشجعی رحمہ اللہ کی ربعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس سے آئے تو ہمیں بتانے لگے کہ جب گزشتہ کل میں امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا تو انہوں نے اپنے رفقاء سے پوچھا کہ تم میں سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتنوں کے بارے میں فرمان یاد ہے؟ اور ابو خالد رحمہ اللہ کی روایت کی طرح روایت سنائی، لیکن ابو مالک رحمہ اللہ نے «مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا» کی تفسیر بیان نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (367)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 371
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ يُحَدِّثُنَا؟ أَوَ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحَدِّثُنَا، وَفِيهِمْ حُذَيْفَةُ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ، وَقَالَ: يَعْنِي أَنَّهُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نعیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں کون ہمیں بتائے گا (اور ان میں حذیفہ رضی اللہ عنہ موجود تھے) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کے بارے میں فرمایا تھا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آگے ابومالک کی وہی روایت بیان کی ہے جو انہوں نے ربعی سے بیان کی اور اس میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی بیان کیا کہ میں نے انہیں حدیث سنائی تھی، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں، یعنی وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 371]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کوئی ہمیں سنائے گا، یا تم میں سے کون ہمیں وہ روایت سنائے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں فرمائی تھی؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں! آگے ابو مالک رحمہ اللہ کی ربعی رحمہ اللہ سے حدیث کی طرح بیان کی اور حدیث میں یہ بھی بیان کیا، میں نے اسے حدیث سنائی تھی، معمہ نہیں، مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تھی (اپنی بات نہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 371]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (367)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں