صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
79. باب فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنَامُ» . وَفِي قَوْلِهِ: «حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ» :
باب: اس قول کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور یہ قول کہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اس کو کھول دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں۔
ترقیم عبدالباقی: 179 ترقیم شاملہ: -- 445
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ، مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ: وَلَمْ يَقُلْ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے عمرو بن مرہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعبیدہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر پانچ باتوں پر مشتمل خطبہ دیا، فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اوپر اٹھاتا ہے، رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اس کا پردہ نور ہے۔ (ابوبکر کی روایت میں نور کی جگہ نار ہے) اگر وہ اس (پردے) کو کھول دے تو اس کے چہرے کے انوار جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں۔“ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”اعمش سے روایت ہے،“ یہ نہیں کہا: ”اعمش نےہمیں حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 445]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں کھڑے ہو کر ہمیں پانچ باتیں بتائیں، فرمایا: ”(1) اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے۔ (2) میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے۔ (3) اس کی طرف رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال (بعد والی رات) سے پہلے اٹھائے جاتے ہیں۔ (4) اس کا پردہ نور ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں نور کی جگہ نار (آگ) ہے۔ (5) اگر وہ اس پردے کو کھول دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کی مخلوق کو جلا دیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 179
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: فيما انكرت الجهمية برقم (195 و 196) انظر ((التحفة)) برقم (9146)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 179 ترقیم شاملہ: -- 446
حَدَّثَنَا، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مِنْ خَلْقِهِ، وَقَالَ: " حِجَابُهُ النُّورُ ".
اعمش کے ایک اور شاگرد جریر نے اسی (مذکورہ) سند سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا ..... پھر جریر نے ابومعاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا اور ”مخلوقات کو جلا ڈالے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور کہا: ”اس کا پردہ نور ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 446]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں کھڑے ہو کر ہمیں چار باتیں بتائیں، پھر جریر رحمہ اللہ نے ابو معاویہ رحمہ اللہ کی طرح حدیث بیان کی اور «مِنْ خَلْقِهِ» کے الفاظ بیان نہیں کیے، اور کہا «حِجَابُهُ النُّورُ» ”اس کا پردہ نور ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 179
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (444)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 179 ترقیم شاملہ: -- 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ، إِنَّ اللَّهَ، لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُهُ، وَيُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ ".
شعبہ نے عمرو بن مرہ کے حوالے سے ابوعبیدہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا: ”اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے، سونا اس کے لائق نہیں، میزان کو اوپر اٹھاتا اور نیچے کرتا ہے۔ دن کا عمل رات کو اور رات کا عمل دن کو اس کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 447]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں چار باتیں بتائیں: ”(1) اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور نہ سونا اس کے لائق ہے۔ (2) وہ ترازو کے پلڑے اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ (3) اس کی طرف دن کا عمل رات کو اور (4) رات کا عمل دن کو اٹھایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 179
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (444)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة