صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب حُكْمِ الْمَنِيِّ:
باب: منی کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 288 ترقیم شاملہ: -- 668
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أن رجلا، نزل بعائشة، فأصبح يغسل ثوبه، فقالت عائشة " إِنَّمَا كَانَ يُجْزِئُكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَ، نَضَحْتَ حَوْلَهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا، فَيُصَلِّي فِيهِ ".
خالد نے ابومعشر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھو دیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے ارد گرد (تک) پانی چھڑک دیتا۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے (مادہ منویہ کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 668]
علقمہ رحمہ اللہ اور اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک مہمان ٹھہرا، صبح وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے اسے دیکھا تھا، تو اس کی جگہ دھو دیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا، تو اس کے ارد گرد پانی چھڑک دیتا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ میں منی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اچھی طرح کھرچ دیتی (کیونکہ وہ خشک ہو چکی تھی)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 668]
ترقیم فوادعبدالباقی: 288
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 288 ترقیم شاملہ: -- 669
وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الأَسْوَدِ ، وَهَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي الْمَنِيِّ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود اور ہمام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مادہ منویہ کے بارے میں روایت کی، کہا: میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 669]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا منی کے بارے میں حدیث بیان کرتی ہیں کہ میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 669]
ترقیم فوادعبدالباقی: 288
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 288 ترقیم شاملہ: -- 670
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مَعْشَر ٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ وَمُغِيرَةَ ، كل هؤلاء، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ.
(خالد کی بجائے) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کے متعدد دیگر شاگردوں مغیرہ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابواسود کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابومعشر سے روایت (: 668) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 670]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور سب سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت سب سے پہلی کی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 670]
ترقیم فوادعبدالباقی: 288
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 288 ترقیم شاملہ: -- 671
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ابن عیینہ نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ہمام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 671]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 671]
ترقیم فوادعبدالباقی: 288
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 289 ترقیم شاملہ: -- 672
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ، أَيَغْسِلُهُ، أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ ".
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا (پورے) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں (سلیمان بن یسار) نے کہا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کپڑے سے) منی کو دھوتے، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 672]
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے کہ میں نے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے انسان کے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں پوچھا کہ کیا انسان اس کو دھوئے گا یا کپڑے کو دھوئے گا؟ تو اس نے کہا، مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی دھلواتے، پھر اس کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور مجھے اس میں دھونے کا نشان نظر آ رہا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 672]
ترقیم فوادعبدالباقی: 289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 289 ترقیم شاملہ: -- 673
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ كلهم، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ "، وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ، فَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عبدالواحد بن زیاد، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح (یہ) ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی (خود) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبدالواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 673]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں، ابن ابی زائدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی دھوتے تھے لیکن ابن مبارک رحمہ اللہ اور عبدالواحد رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 673]
ترقیم فوادعبدالباقی: 289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 290 ترقیم شاملہ: -- 674
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: " كُنْتُ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ، فَاحْتَلَمْتُ فِي ثَوْبَيَّ، فَغَمَسْتُهُمَا فِي الْمَاءِ، فَرَأَتْنِي جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا، فَبَعَثَتْ إِلَيَّ عَائِشَةُ ، فَقَالَتْ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ بِثَوْبَيْكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: رَأَيْتُ مَا يَرَى النَّائِمُ فِي مَنَامِهِ، قَالَتْ: هَلْ رَأَيْتَ فِيهِمَا شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: فَلَوْ رَأَيْتَ شَيْئًا غَسَلْتَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَحُكُّهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَابِسًا بِظُفُرِي.
عبداللہ بن شہاب خولانی سے روایت ہے، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مہمان تھا، مجھے اپنے دونوں کپڑوں میں احتلام ہو گیا تو میں نے وہ دونوں پانی میں ڈبو دیے، مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز نے دیکھ لیا اور انہیں بتا دیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھجوایا اور فرمایا: تو نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا: میں نے نیند میں وہ دیکھا جو سونے والا اپنی نیند میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں ان دونوں (کپڑوں) میں کچھ نظر آیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر تم کچھ دیکھتے تو اسے دھو ڈالتے۔ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اس کو خشک حالت میں اپنے ناخن سے کھرچ رہی ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 674]
عبداللہ بن شہاب خولانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مہمان تھا، مجھے اپنے کپڑوں میں احتلام آ گیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے پانی میں ڈبو دیے، مجھے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز (لونڈی) نے دیکھ لیا، اور انہیں بتا دیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے میری طرف پیغام بھیجا، اور فرمایا: تجھے اپنے کپڑوں کے ساتھ یہ معاملہ کرنے پر کس بات نے ابھارا؟ میں نے جواب دیا، میں نے نیند میں وہ چیز دیکھی جو سونے والا اپنی نیند میں دیکھتا ہے، انہوں نے پوچھا، کیا تمہیں ان میں کچھ نظر آیا؟ میں نے کہا، نہیں انہوں نے فرمایا: اگر تم کچھ دیکھتے تو اسے دھو لیتے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ میں اسے خشک ہونے کی صورت میں اپنے ناخن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 674]
ترقیم فوادعبدالباقی: 290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة