المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. الوضوء من لحوم الإبل
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي مَرَاحِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ؟ قَالَ: لا" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں بکری کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس نے پوچھا: میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ فرمایا: جی ہاں! اس نے پوچھا: کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!، اس نے پوچھا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 360»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَاضِرٌ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَأُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَأُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا؟ قَالَ: لا" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ.
سیدنا براء بن عازب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا: میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ فرمایا: نہیں، اس نے پوچھا: کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ فرمایا: جی ہاں!، پوچھا: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ فرمایا: جی ہاں!، پوچھا: کیا میں ان کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ فرمایا نہیں۔ ابو محمد کہتے ہیں: عثمان بن عبد اللہ موہب اور اشعث بن ابی شعثاء نے اسے جعفر بن ابی ثور سے بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 288/4، سنن أبى داود: 184، سنن الترمذي: 81، سنن ابن ماجه: 494، السنن الكبرى للبيهقي: 159/1، اس حديث كو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، امام اسحاق بن راهو يه رحمہ اللہ، سنن الترمذي، تحت حديث: 81، امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 32، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1128، نے ”صحيح“ كها هے . اعمش رحمہ اللہ نے السنن الكبرى للبيهقي 159/1 ميں سماع كي تصريح كي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح