المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. في النية في الأعمال
اعمال میں نیت کے (ضروری ہونے کے) بارے میں
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يُخْبِرُ ذَلِكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّ لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ" .
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا: اعمال کا بدلہ نیت پر منحصر ہے، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کی، اس کی ہجرت انہی کی خاطر ہو گی اور جس نے حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت ان چیزوں کے لیے ہی ہو گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1، صحيح مسلم: 1907»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه