🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. لا تقبل صلاة بغير طهور
پاکیزگی کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لا يَقْبَلُ صَلاةً بِغَيْرِ طَهُورٍ وَلا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ" .
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عامر (بصرہ کے گورنر) کی وفات کے وقت لوگ ان کی تعریف کرنے لگے، تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: میں ان کو آپ سے متنفر تو نہیں کرنا چاہتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کرتا اور حرام مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 224»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُقْبَلُ صَلاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے وضو آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی، تا آنکہ وہ (دوبارہ) وضو نہ کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 135، صحيح مسلم: 225»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں