المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء في الأطعمة
کھانوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 889
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
سیدنا ابو ثعلبه خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چلی (نوکيلے دانت) والے درندے کو کھانے سے منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 889]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5530، 5780، صحیح مسلم: 1936»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 890
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ لَهُ" أَخْبِرْنِي عَنِ السَّبُعِ أَنَأْكُلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ" .
عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے کہا: مجھے بتلائیے، کیا ہم ضبع کھا سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے کہا: کیا آپ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: جی ہاں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 890]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة: مسند الإمام أحمد: 3/297-318-322، سنن أبي داود: 3801، سنن النسائي: 2839، سنن الترمذي: 851، سنن ابن ماجه: 3236، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2645، 2646) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3965) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (4/521) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة
حدیث نمبر: 891
حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ" أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَأَدْرَكْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَبَعَثَ بِفَخِذِهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُ قَالَ: بِوَرِكِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهَا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مر الظهران نامی جگہ میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا، لوگ (اس کے پیچھے) دوڑے، تو میں نے اسے پکڑ لیا، میں اسے سیدنا ابوطلحہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اس کے ران کا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5535، صحيح مسلم: 1953۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ ، قَالَ: ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: ثنا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی (نوکيلے دانت) والے درندے اور ہر (پنجے سے شکار کرنے) والے پرندے سے منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1934۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 893
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چلی (نوکيلے دانت) والے درندے اور ہر (پنجے سے شکار کرنے) والے پرندے سے منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 893]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1934۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا هِشَام ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّباب، فَقَالَ:" أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ، وَتَرَكَ الضِّباب تَقَذُّرًا لَهُمْ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سانڈے کھانے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میری خالہ ام حفيد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی، پنیر اور سانڈوں کا تحفہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے کچھ کھا لیا اور ان کی وجہ سے سانڈے چھوڑ دیے، اگر وہ حرام ہوتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائے جاتے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کھانے کا حکم دیتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5402، صحيح مسلم: 1947۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح