المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
79. باب الرضخ للمرأة والمملوك يحضرون القتال
جنگ میں حاضر ہونے والی عورت اور غلام کو (غنیمت سے) کچھ عطیہ دینا
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا سَهْمٌ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ" .
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا: آپ نے مجھ سے یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا ہے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے؟ تو (جواب یہ ہے کہ) آپ صلی الله علیہ وسلم انہیں جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کیا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت میں سے تحفہ بھی دیا جاتا تھا، البتہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر نہیں کیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1812»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ، قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: ثني قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، قَالَ: فَشَهِدَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ إِلَيْهِ، قَالَ" وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ" .
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور ان سے مختلف مسائل دریافت کیے، یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب ان کا خط پڑھا اور انہیں اس کا جواب لکھا تو اس وقت میں ان کے پاس موجود تھا، آپ نے فرمایا: تو نے مجھ سے عورت اور غلام کے متعلق پوچھا ہے کہ اگر وہ جنگ میں شامل ہوں تو کیا (غنیمت میں) ان کا حصہ مقرر ہے؟ ان دونوں کا کوئی حصہ مقرر نہیں تھا، بس قوم کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ تحفہ دے دیا جاتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «انظر الحديث السابق»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْهِمْ لِي؟ قَالَ: فَأَعْطَانِي سَيْفًا، قَالَ: " تَقَلَّدْ هَذَا، وَأَعْطَانِي مِنْ خُرْنِيِّ الْمَتَاعِ" .
ابو اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں شریک ہوا، تو اس وقت میں غلام تھا، میں نے عرض کیا: الله کے رسول! مجھے بھی حصہ دیجیے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے ایک تلوار دی اور فرمایا: اسے گلے میں ڈال لیں۔ نیز آپ نے گھریلو استعمال کی چند چیزیں بھی مجھے دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/223، سنن أبي داود: 2730، سنن ابن ماجه: 2855، سنن الترمذي: 1557، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: 2671، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (6898) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4831) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/131) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حفص بن غیاث نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، اس کی متابعت بھی موجود ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح