🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابُ فَضْلِ صَلاَةِ الْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ:
باب: فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ، صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ"، ثُمَّ يقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا،، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت سے نماز اکیلے پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ اور رات دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو (سورۃ بنی اسرائیل) کی یہ آیت پڑھو «إن قرآن الفجر كان مشهودا‏» یعنی فجر میں قرآن پاک کی تلاوت پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 648]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: نماز باجماعت تنہا شخص کی نماز سے پچیس درجے میں زیادہ ہے اور رات دن کے فرشتے نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [سورة الإسراء: 78] فجر میں قرآن کی تلاوت پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
قَالَ شُعَيْبٌ: وَحَدَّثَنِي نَافِعٌa>، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَفْضُلُهَا بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
شعیب نے فرمایا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے اس طرح حدیث بیان کی کہ جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 649]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نماز باجماعت کی فضیلت تنہا شخص کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ:" دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَا أَغْضَبَكَ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سالم سے سنا۔ کہا کہ میں نے ام الدرداء سے سنا، آپ نے فرمایا کہ (ایک مرتبہ) ابودرداء آئے، بڑے ہی خفا ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی، جس نے آپ کو غضبناک بنا دیا۔ فرمایا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی کوئی بات اب میں نہیں پاتا۔ سوا اس کے کہ جماعت کے ساتھ یہ لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 650]
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ انتہائی غصے کی حالت میں میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: آپ کو کس بات نے غضبناک بنا دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے میں اب کوئی بات نہیں پاتا سوائے اس کے کہ لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو (مسجد میں نماز کے لیے) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو (پہلے ہی) پڑھ کر سو جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 651]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے متعلق سب لوگوں سے زیادہ ثواب ان حضرات کو ملتا ہے جن کی مسافت مسجد سے دور ہے، پھر (ان سے زیادہ انہیں) جن کی ان سے دور ہے۔ اور جو شخص امام کے ہمراہ نماز پڑھنے کا انتظار کرتا ہے باعتبار ثواب کے اس شخص سے بڑھ کر ہے جو نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں