صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
ترقیم عبدالباقی: 591 ترقیم شاملہ: -- 1334
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ، كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ولید نے اوزاعی سے، انہوں نے ابوعمار (ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے) سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!“ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انہوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1334]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور اس کے بعد کہتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ملتی ہے، تو برکت و عظمت والا ہے، اے بزرگی اور برتری والے۔“ ولید کہتے ہیں میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا: ”استغفار کیسے ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یوں کہو: «أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ» ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1334]
ترقیم فوادعبدالباقی: 591
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 592 ترقیم شاملہ: -- 1335
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَلَّمَ، لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ، مَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابومعاویہ نے عاصم سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی (قبلہ رخ) بیٹھتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!“ ابن نمیر کی روایت میں: «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1335]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف «اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» پڑھنے کی مقدار تک بیٹھتے تھے“ اور ابن نمیر کی روایت: «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» یعنی ”یا“ کے اضافے کے ساتھ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1335]
ترقیم فوادعبدالباقی: 592
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 592 ترقیم شاملہ: -- 1336
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ابوخالد احمر نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1336]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے اور کہا: «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے عظمت و احسان کے مالک۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1336]
ترقیم فوادعبدالباقی: 592
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 592 ترقیم شاملہ: -- 1337
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنِ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر وہ (شعبہ) «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1337]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» “ کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1337]
ترقیم فوادعبدالباقی: 592
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1338
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
منصور نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ان کے مطالبے پر) معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1338]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی حکومت اور فرمانروائی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور ہر چیز پر اس کو قدرت حاصل ہے، اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے، اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کے تو نہ دینے کا فیصلہ کر لے، کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور کسی سرمایہ دار، صاحبِ جاہ و عظمت کو اس کا سرمایہ اور جاہ و عظمت تجھ سے مستغنی نہیں کر سکتا، بڑے سے بڑا سرمایہ دار اور صاحبِ عظمت و جاہ ہر آن تیرا محتاج ہے۔“” [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1338]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1339
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: فَأَمْلَاهَا عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، وَكَتَبْتُ بِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور احمد بن سنان نے ہمیں حدیث بیان کی، ان سب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ ابوبکر اور ابوکریب نے اپنی روایت میں: (وراد نے) کہا: مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات مجھے لکھوائی اور میں نے یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1339]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1340
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، إِلَّا قَوْلَهُ: وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ.
ابن عون نے ابوسعید سے، انہوں نے وراد سے (جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے) روایت کی، کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا (مسئلہ دریافت کیا) (آگے منصور اور اعمش کی حدیث کے مطابق ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1340]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھوایا (یہ تحریر ان کی طرف سے وراد نے لکھی): ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کے وقت سنا“، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، مگر اس میں «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1341
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ.
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1341]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1342
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1342]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ ”مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو“، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تو فرماتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں فائدہ نہیں دے سکتی۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1343
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ "، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے ابوزبیر سے حدیث سنائی، کہا: (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا حول ولا قوة إلا باللہ، لا إلہ إلا اللہ، ولا نعبدإلا إیاہ، لہ النعمة ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی) ہے، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے، خوبصورت تعریف کا سزاوار بھی وہی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی) ناپسند کریں۔“ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد بلند آواز سے «لا إلہ إلا اللہ» والے یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1343]
حضرت ابو زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کے بعد، سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور ساجھی نہیں، اس کی حکومت اور فرمانروائی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت سب اللہ ہی کے ارادے سے ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں، ہم صرف اس کی بندگی کرتے ہیں، سب نعمتیں اسی کی ہیں اور فضل و کرم اس کا ہے، اچھی تعریف کا مستحق بھی وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم پورے اخلاص کے ساتھ اس کی بندگی کرتے ہیں، اگرچہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو“ اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہر نماز کے بعد ان کلمات کو بلند آواز سے کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة