مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
58. في الرجل يجعل عليه رقبة من ولد إسماعيل
کوئی شخص یوں کہے کہ میں ولد اسماعیل میں سے غلام آزاد کروں گا
ترقیم عوامۃ: 12604 ترقیم الشثری: -- 12872
١٢٨٧٢ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) العبدي عن مسعر عن عبيد بن (الحسن) (٢) عن ابن (معقل) (٣) قال: كان على عائشة رقبة او نسمة تعتقها من ولد إسماعيل قال: (فقدم) (٤) (سبي) (٥) من اليمن قال مسعر: اراه من قبيلة (يقال) (٦) لها (خولان) (٧) قال: فنهاها ان تعتق منهم، قال: (فقدم) (٨) سبي من مضر، اراه قال: من بني (العنبر) (٩) (فامرها) (١٠) ان تعتق منهم (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بشير).
(٢) في [ز]: (الحسين).
(٣) في [ب، ص، ز، جـ]: (مغفل).
(٤) في [أ]: (تقدم).
(٥) في [ص]: (نسى)، وفي [ز]: (شي).
(٦) في [ز]: (فقال).
(٧) في [ص]: (حولان).
(٨) في [أ]: (تقدم).
(٩) في [ص]: (القنبر).
(١٠) في [جـ]: (يأمرها).
(١١) صحيح.
حدثنا محمد بن بشر العبدي ، عن مسعر ، عن عبيد بن الحسن ، عن ابن معقل ، قال: كان على عائشة رقبة او نسمة تعتقها من ولد إسماعيل، قال: فقدم سبي من اليمن، قال مسعر: اراه من قبيلة يقال لها: خولان , قال:" فنهاها ان تعتق منهم" قال: فقدم سبي من مضر , اراه قال: من بني العنبر ," فامرها ان تعتق منهم"
حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا تھا، یمن سے کچھ قیدی آئے، مسعر راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ قبیلہ خولان کے تھے آپ کو ان میں سے آزاد کرنے سے منع کردیا گیا، پھر مضر سے کچھ قیدی آئے، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ بنو عنبر کے تھے، پھر آپ کو حکم دیا کہ اس میں سے ایک آزاد کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 12872]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12872، ترقيم محمد عوامة 12604)
ترقیم عوامۃ: 12605 ترقیم الشثری: -- 12873
١٢٨٧٣ - حدثنا عبد الرحيم عن زكريا بن ابي زائدة قال: سئل عامر عن رجل (جعل) (١) عليه (محررين) (٢) من ولد إسماعيل إن دخل (بيت) (٣) فلان، فدخله، ⦗٣٤٧⦘ قال: (ليس لها) (٤) كفارة، قال الرجل: (إني) (٥) (لا) (٦) اجدهما، قال: (فصم) (٧) اربعة اشهر متتابعات، عن كل رقبة شهرين لعله ان يكفر شيئا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في [ص]، وفي [ن]: (جمع).
(٢) في [أ، ص]: (محرر).
(٣) في [ب، جـ]: (بيته).
(٤) في [ن]: (ليحررهما).
(٥) في [جـ، ص، ز]: (فإني).
(٦) في [ص]: سقطت (لا).
(٧) في [ف]: (صم).
حدثنا عبد الرحيم، عن زكريا بن ابي زائدة، قال: سئل عامر، عن رجل جمع عليه محررين من ولد إسماعيل إن دخل بيت فلان , فدخله , قال:" ليس لها كفارة" , قال الرجل: إني لا اجدهما , قال:" فصم اربعة اشهر متتابعات، عن كل رقبة شهرين لعله ان يكفر شيئا"
حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ اگر وہ فلاں کے گھر داخل ہوا تو اولاد اسماعیل میں سے دو غلام آزاد کرے گا، اور پھر وہ اس کے گھر داخل ہوگیا؟ آپ نے فرمایا اس پر کفارہ نہیں ہے، اس شخص نے عرض کیا میں ان دونوں کو نہیں پاتا، آپ نے فرمایا پھر چار مہینے کے لگاتار روزے رکھو، ہر غلام کے بدلے دو مہینے کے روزے، شاید کہ یہ کچھ کفارہ بن جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 12873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12873، ترقيم محمد عوامة 12605)