صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ:
باب: سوال کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 1037 ترقیم شاملہ: -- 2389
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ". (حديث مرفوع) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا: " أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ".
عبداللہ بن عامر یحصبی نے کہا میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: تم اس حدیث کے سوا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں (بیان کی جاتی) تھی دوسری احادیث بیان کرنے سے بچو کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو (روایات کے سلسلے میں بھی) اللہ کا خوف دلایا کرتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں گہرا فہم عطا فرما دیتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: ”میں تو بس خزانچی ہوں جس کو میں خوش دلی سے دوں اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور جس کو میں مانگنے پر اور (اس کے) حرص کے سبب سے دوں اس کی حالت اس انسان جیسی ہوگی جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2389]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ان احادیث کے سوا احادیث بیان کرنے سے بچو جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیان کی جاتی تھیں، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو (روایات کے سلسلہ میں) اللہ سے ڈرایا کرتے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سوجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: ”میں تو بس خازن ہوں، تو میں جس کو خوش دلی سے دوں اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جائے گی اور جس کو میں مانگنے پر اور حرص کے سبب دوں اس کی حالت اس انسان جیسی ہو گی جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1037
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1038 ترقیم شاملہ: -- 2390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ هَمَّامٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو (بن دینار) سے حدیث بیان کی انہوں نے وہب بن منبہ سے انہوں نے اپنے بھائی ہمام سے اور انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنے میں اصرار نہ کرو اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میں سے کوئی شخص مجھ سے کچھ مانگے میں اسے ناپسند کرتا ہوں پھر بھی اس کا سوال مجھ سے کچھ نکلوالے تو جو میں اس کو دوں اس میں برکت ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2390]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصرار اور الحاح سے سوال نہ کرو۔ اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی مجھ سے کچھ مانگتا ہے اور اس کے سوال کرنے کی بنا پر میں اسے کچھ دے دیتا ہوں حالانکہ میں دینا نہیں چاہتا تھا تو میرے اس کو دینے میں برکت نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1038
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1038 ترقیم شاملہ: -- 2391
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ ، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ابن ابی عمر مکی نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو بن دینار سے حدیث سنائی کہا: مجھے وہب بن منبہ نے۔۔۔ جب میں صنعاء میں ان کے پاس ان کے گھر گیا اور انہوں نے مجھے اپنے گھر کے درخت سے اخروٹ کھلائے۔۔۔ اپنے بھائی سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے۔۔۔ (آگے) اسی (پچھلی) حدیث کے مطابق بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2391]
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: ”میں وہب بن منبہ کے گھر صنعاء ان کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھے اپنے گھر کے اخروٹ کھلائے اور اپنے بھائی سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سنائی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1038
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1037 ترقیم شاملہ: -- 2392
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ ".
حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے کہا: میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا گہرا فہم عطا فرماتا ہے اور میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2392]
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ جس کے ساتھ بہت بڑی خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کا گہرا فہم عطا فرماتا ہے، اور میں تو بس تقسیم کنندہ ہوں اور دینے والا اللہ ہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1037
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة