صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ:
باب: جس نے عاشورہ کے دن (صبح) کھانا کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی ماندہ دن کھانے سے رکا رہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1135 ترقیم شاملہ: -- 2668
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ مَنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ ".
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ ”جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہو وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2668]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن اسلم قبیلہ کا ایک آدمی بھیجا اور اسے حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردو۔ ”جس نے روزہ نہیں رکھا وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھاپی لیا ہے تو وہ (دن کا باقی حصہ) رات تک روزہ پورا کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2668]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1136 ترقیم شاملہ: -- 2669
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: " أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ، إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ، مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ "،
ابوبکر بن نافع، بشر بن مفضل بن لاحق، خالد بن ذکوان، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے ارد گرد تھی یہ پیغام بھجوا دیا کہ ”جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پورا کر لے اور جس نے صبح کو افطار کر لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کر لے۔“ اس کے بعد ہم روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2669]
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ کے آس پاس کی انصارکی بستیوں میں اطلاع بھیجی کہ ”جنہوں نے صبح روزہ کی حالت میں کی (ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں) وہ اپنا روزہ پورا کریں اور جنھوں نے صبح افطار کی حالت میں کی (کچھ کھا پی لیا ہے) وہ دن کا باقی حصہ کا روزہ پورا کریں۔“ اس کے بعد ہم خود روزہ رکھتے تھے اور ان شاء اللہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم مسجد کو چلے جاتے تو ان کے لیے روئی کا کھلونا (گڑیا) بناتے جب ان میں سے کوئی کھانے کے لیے روتا تو ہم انہیں افطار تک اس گڑیا کے ذریعہ بہلا کر لے جاتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2669]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1136 ترقیم شاملہ: -- 2670
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَتْ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا، فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ، أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ، حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعشر، عطار، خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آگے بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2670]
خالد بن ذکوان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا؟ انھوں نے بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارکی بستیوں میں اپنے پیغام بر بھیجے بشر کی طرح حدیث بیان کی، بس اتنا فرق ہے کہ اس نے کہا: ہم ان کے لیے روئی کی گڑیا بناتے اور اسے اپنے ساتھ لے جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیا غافل کرنے کے لیے دے دیتے تاکہ وہ اپنا روزہ پورا کرلیں یا حتی کہ وہ اپنا روزہ پورا کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2670]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة