🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب من اكل في عاشوراء فليكف بقية يومه:
باب: جس نے عاشورہ کے دن (صبح) کھانا کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی ماندہ دن کھانے سے رکا رہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1136 ترقیم شاملہ: -- 2670
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَتْ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا، فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ، أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ، حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعشر، عطار، خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آگے بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2670]
خالد بن ذکوان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا؟ انھوں نے بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارکی بستیوں میں اپنے پیغام بر بھیجے بشر کی طرح حدیث بیان کی، بس اتنا فرق ہے کہ اس نے کہا: ہم ان کے لیے روئی کی گڑیا بناتے اور اسے اپنے ساتھ لے جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیا غافل کرنے کے لیے دے دیتے تاکہ وہ اپنا روزہ پورا کرلیں یا حتی کہ وہ اپنا روزہ پورا کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2670]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصاريةصحابي
👤←👥خالد بن ذكوان المدني، أبو الحسن، أبو الحسين
Newخالد بن ذكوان المدني ← الربيع بنت معوذ الأنصارية
صدوق حسن الحديث
👤←👥يوسف بن يزيد البصري، أبو معشر
Newيوسف بن يزيد البصري ← خالد بن ذكوان المدني
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← يوسف بن يزيد البصري
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2670 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2670
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آمد کے بعد،
جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا اور اس کا مسلمانوں کو عمومی حکم دینے کے لیے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ کے آس پاس کی ان بستیوں میں جہاں انصار رہتے تھے یہ اطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی تک کچھ کھایا پیا نہ ہو،
وہ آج کے دن روزہ رکھیں اور جنھوں نے کچھ کھا پی لیا ہو وہ بھی دن کے باقی حصے میں کچھ نہ کھائیں پئیں،
بلکہ روزہ داروں کی طرح رہیں اور پھر انصار نے اس کا اس قدراہتمام کیا کہ انہوں نے چھوٹے بچوں کو بھی روزے رکھوائے اور ان کو مشغول اور مصروف کرنے کے لیے تاکہ وہ کھانے پر اصرار نہ کریں،
روئی کے کھلونے تیار کر کے ان کو بہلایا،
احناف نے اس تاکیدی حکم سے عاشورہ کی فرضیت پر استدلال کیا ہے اور اس سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ فرض روزے کے لیے بھی رات کو نیت کرنا ضروری نہیں ہے،
باقی ائمہ کے نزدیک فرض روزے کے لیے رات کو نیت ضروری ہے اور اگرعاشورہ کا روزہ فرض ہوتا تو اس کی بھی رات کو نیت کی جاتی،
اس کی تاکید اور اہتمام کا لوگوں کو پہلے پتہ ہی نہ تھا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے بعد اس کا اعلان کروایا،
اس لیے اس کی نیت رات کو ممکن نہ تھی۔
اس لیے اس سے صرف اس قدر بات ثابت ہو چکی ہے،
اگر کوئی رات بھر سویا رہا،
طلوع فجر کے بعد بیدار ہوا تو وہ اس طرح روزہ رکھ سکتا ہے جب اسے یہ پتہ چلے آج روزہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2670]