🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ جَوَازِ تَقْصِيرِ الْمُعْتَمِرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَنَّهُ لَا يَجِبُ حَلْقُهُ، وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ كَوْنُ حَلْقِهِ أَوْ تَقْصِيرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
باب: عمرہ کرنے والے کے لئے اپنے بالوں کے کٹوانے کا جواز، اور سر کا منڈانا واجب نہیں ہے، اور سر کے منڈوانے اور کٹوانے کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1246 ترقیم شاملہ: -- 3021
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: " أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ "، فَقُلْتُ لَهُ: " لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ ".
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے؟ میں نے کہا: میں یہ تو نہیں جانتا مگر (یہ جانتا ہوں کہ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلاف دلیل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3021]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال مروہ کے پاس، تیر کی دھار یا قینچی سے کاٹے تھے؟ تو میں نے انہیں جواب دیا: میرے نزدیک، میرے علم میں تمہارا یہ فعل، تمہارے خلاف دلیل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1246
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1246 ترقیم شاملہ: -- 3022
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ ".
حسن بن مسلم نے طاوس سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہا: میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تراشے جبکہ آپ مروہ پر (سعی سے فارغ ہوئے) تھے۔ یا کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے بال قینچی سے تراشے جا رہے تھے، اور آپ مروہ پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3022]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مروہ پر، تیر کے پیکان سے کاٹے تھے، یا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، مروہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کے پیکان سے کاٹے جا رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1246
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1247 ترقیم شاملہ: -- 3023
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ".
عبدالاعلی بن عبدالاعلی نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں داود نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے (حج کو) عمرہ میں بدل دیں۔ جب (ترویہ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرام باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3023]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے نکلے، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حج کے تلبیہ کو عمرہ قرار دینے کا حکم دیا ان لوگوں کے سوا جو ہدی لائے تھے، جب ترویہ کا دن آیا اور ہم منیٰ کو چلے تو ہم نے حج کا احرام باندھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1248 ترقیم شاملہ: -- 3024
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: " قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ".
وہیب بن خالد نے داود سے انہوں نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکار رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3024]
حضرت جابر اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم مکہ پہنچے اور ہم حج کے لیے بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1248
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1249 ترقیم شاملہ: -- 3025
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ "، فَقَالَ جَابِرٌ : " فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا ".
ابونضرہ سے روایت ہے کہا: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دونوں متعوں (حج تمتع اور عورتوں سے متعہ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبارہ ہم نے دونوں نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3025]
ابو نضرہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما «مُتْعَةُ الْحَجِّ» متعۃ الحج اور «مُتْعَةُ النِّسَاءِ» متعۃ النساء کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے یہ دونوں متعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تھا، پھر ہم ان کی طرف نہیں لوٹے، یعنی انہیں نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3025]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں