🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الإِحْرَامِ:
باب: احرام کے وقت قربانی کے اونٹ میں اشعار کرنے اور اسے قلاوہ ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1243 ترقیم شاملہ: -- 3016
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، وَسَلَتَ الدَّمَ وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ "،
شعبہ نے قتادہ سے انہوں نے ابوحسان سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کوہان کی دائیں جانب (ہلکے سے) زخم کا نشان لگایا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لٹکائے۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ (اور چل دیے) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3016]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی، پھر اپنی اونٹنی کو منگوایا اور اس کی کوہان کے دائیں طرف زخم لگایا اور خون کو صاف کر دیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا، پھر اپنی اونٹنی (سواری) پر سوار ہوئے، جب آپ صلی الله عليہ وسلم کی سواری بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی، تو آپ صلی الله عليہ وسلم نے حج کا تلبیہ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1243
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1243 ترقیم شاملہ: -- 3017
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ ". وَلَمْ يَقُلْ: " صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ ".
معاذ بن ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (ہشام بن ابی عبداللہ صاحب الدستوائی) نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی، البتہ انہوں نے یہ الفاظ کہے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے یہ نہیں کہا: انہوں نے وہاں (ذوالحلیفہ میں) ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3017]
امام صاحب اپنے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے، اور نماز ظہر پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1243
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1244 ترقیم شاملہ: -- 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ ".
شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا، انہوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ کیا فتویٰ ہے۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے) وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہاری مرضی نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3018]
بنو ہُجیم کے ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، یہ فتویٰ جو لوگوں کے دلوں میں جم گیا ہے، یا جس نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے، کیا ہے، کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، وہ حلال ہو جائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ تمہاری ناگواری کے باوجود، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (طریقہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1244
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1244 ترقیم شاملہ: -- 3019
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ، مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ "، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغَمْتُمْ ".
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوحسان سے حدیث بیان کی، کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ اس معاملے (فتوے) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طواف (عمرہ) کر کے وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فرمایا: (ہاں) یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہیں نہ چاہتے ہوئے قبول کرنی پڑے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3019]
ابو حسان کہتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا، اس مسئلہ کا لوگوں میں چرچا ہو گیا ہے، جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، وہ حلال ہو جائے، طواف عمرہ ٹھہرتا ہے، انہوں نے جواب دیا، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، خواہ تمہیں ناگوار گزرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1244
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1245 ترقیم شاملہ: -- 3020
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ، وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ، إِلَّا حَلَّ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؟، قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 33، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ، " وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: (احرام کی حالت میں) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی (صرف عمرہ کرنے والا) وہ طواف کے بعد احرام سے آزاد ہو جائے گا ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے دریافت کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ (ان کے پاس کیا دلیل ہے؟) فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے (دلیل لیتے ہوئے) پھر ان کے حلال (ذبح) ہونے کی جگہ البیت العتیق (بیت اللہ) کے پاس ہے۔ ابن جریج نے کہا: میں نے (عطاء سے) کہا: اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انہوں نے جواب دیا: (مگر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے۔ اور انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر (طواف و سعی کے بعد) احرام کھول دینے کے بارے میں دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3020]
عطاء رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے، بیت اللہ کا طواف کرنے والا حاجی ہو یا حاجی نہ ہو (عمرہ کرنے والا ہو) وہ حلال ہو جائے گا، ابن جریج کہتے ہیں، میں نے عطاء سے سوال کیا، وہ کس دلیل کی بنا پر یہ کہتے ہیں؟ عطاء نے جواب دیا، اللہ کے اس فرمان کی رو سے قربانی کے پہنچنے کی جگہ بیت اللہ ہے۔ (سورۃ حج، آیت نمبر: 33) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1245
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں