مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. في العتيرة و (الفرعة)
عتیرہ اور فرعہ کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 24788 ترقیم الشثری: -- 25889
٢٥٨٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير (١) قال: حدثنا داود بن قيس قال: حدثني عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: سئل رسول الله ﷺ عن الفرع (فقال) (٢) :"و (الفرع) (٣) حق؛ ولان (تتركه) (٤) حتى يكون (شغزبا) (٥) ابن مخاض (او ابن) (٦) لبون فتحمل عليه في سبيل الله، (او تعطيه) (٧) ارملة خير من ان تذبحه (يلصق) (٨) لحمه بوبره، ⦗٣٨٢⦘ (تكفا إناءك) (٩) وتوله ناقتك"، وساله عن العتيرة؟ فسكت رسول الله ﷺ فسال بعض القوم عمر عن العتيرة فقال: كنا نسميها الرجبية، ويذبح اهل البيت الشاة في (الرجب) (١٠) فياكلونها (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن) زائدة.
(٢) في [ط، جـ]: (قال).
(٣) في [جـ]: (والفزع).
(٤) في [أ، ح، ط]: (يتركه).
(٥) أي: كبيرًا، وفي [أ، ز]: (سعريا) وفي [هـ]: (شفريا).
(٦) في [ح]: (وابن).
(٧) ما بين المعكوفتين سقط من: [أ، ح، ط، ز].
(٨) في [أ، ح، ط]: (تلصق).
(٩) في [أ، ح، ط]: (تكفوا اباك).
(١٠) في [أ، ح، ط، جـ، ز]: (رجب).
(١١) حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (٦٧١٣)، وأبو داود (٢٨٤٢)، والنسائي ٧/ ١٦٢، والحاكم ٤/ ٢٣٦، والبيهقي ٩/ ٣٠٠، وابن عبد البر في التمهيد ٤/ ٣١٧.
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فَرَع کے بارے میں سوال کیا گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فَرَع حق ہے۔ اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ بچہ دو سال کا یا تین سال کا بڑا ہوجائے پھر تو اس پر راہ خدا میں بوجھ برداری کرے یا تو اس کو کسی رنڈے کو دے دے یہ اس سے بہتر ہے کہ تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت اس کے بالوں سے ملا دے اور تو ہانڈی کو انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو پاگل بنا دے اور سائل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت فرمایا، ایک آدمی نے حضرت عمر سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا۔ ہم نے اس کا نام رجبیہ رکھا ہو اتھا۔ کوئی بھی اہل خانہ ایک بکری ماہ رجب میں ذبح کرتے تھے اور اس کو کھالیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25889، ترقيم محمد عوامة 24788)
ترقیم عوامۃ: 24789 ترقیم الشثری: -- 25890
٢٥٨٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (عفان قال حدثنا حماد بن سلمة قال اخبرنا) (١) عبد الله بن عثمان بن خثيم عن يوسف بن ماهك عن حفصة بنت عبد الرحمن عن عائشة انها قالت: امرنا رسول الله ﷺ بالفرع في كل خمس (شياه) (٢) شاة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ]، وسقط من: [أ، ح، ط]: (عفان قال حدثنا).
(٢) في [ط، جـ]: (شاة).
(٣) مضطرب؛ اضطرب فيه عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم، أخرجه أحمد (٢٥٢٥٠)، وابن ماجه (٣١٦٣)، وأبو داود (١٨٣٣)، والحاكم ٤/ ٢٣٥، وإسحاق (١٠٣٤)، وعبد الرزاق (٧٩٩٧)، والطحاوي في شرح المشكل (١٠٤٤)، والحازمي في الاعتبار ص ١٥٦.
حضرت حفصہ بنت عبد الرحمان، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہر پانچ بکریوں میں ایک بکری کے فرع کا حکم دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25890، ترقيم محمد عوامة 24789)
ترقیم عوامۃ: 24790 ترقیم الشثری: -- 25891
٢٥٨٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة وبن طاوس عن ابيه قال: سئل النبي ﷺ عن الفرع فقال:"فرعوه إن شئتم، وإن تغذوه حتى يبلغ فتحملوا عليه في سبيل (الله) (١) او تصلوا به قرابة، خير من ان (تذبحوه) (٢) يختلط لحمه بشعره" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في: [ز] ساقطة.
(٢) في [أ، ط، ح]: (تذبحونه).
(٣) مرسل؛ طاوس تابعي.
حضرت ابراہیم بن میسرہ اور حضرت طاؤ س، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرع کے بارے میں سوال کیا گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو پہلے بچہ کو ذبح کردو۔ اور اگر تم اس کو تب تک پالو جب تک کہ وہ بڑا ہوجائے پھر تم اس پر راہ خدا میں بوجھ برداری کرو یا اس کے ذریعے صلہ رحمی کرو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اس کو اس طرح سے ذبح کردو کہ اس کا گوشت اس کے بالوں سے مخلوط ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25891، ترقيم محمد عوامة 24790)
ترقیم عوامۃ: 24791 ترقیم الشثری: -- 25892
٢٥٨٩٢ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) عفان قال: (حدثنا) (٢) (ابو عوانة) (٣) قال: حدثنا يعلى بن عطاء عن وكيع العقيلي عن عمه ابي رزين وهو لقيط بن عامر انه قال: يا رسول الله إنا كنا نذبح في رجب ذبائح، فناكل منها ونطعم من جاءنا، فقال رسول الله ﷺ:"لا باس بذلك" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أنا)، وفي [ز]: سقط.
(٢) سقط في: [ز].
(٣) في [ح]: (عونه).
(٤) مجهول؛ لجهالة وكيع العقيلي، أخرجه أحمد (١٦٢٠٢)، والنسائي ٧/ ٧١، والدولابي في الكنى ١/ ٢٩، والطحاوي في شرح المشكل (١٠٦٠)، وابن حبان (٥٨٩١)، والطبراني ١٩/ ٤٦٧، والبيهقي ٩/ ٣١٢.
حضرت وکیع عقیلی، اپنے چچا حضرت ا بو رزین سے… جس کا نام حضرت لقیط بن عامر ہے… روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم لوگ ماہ رجب میں کچھ جانور ذبح کرتے تھے جن کو ہم خود بھی کھاتے تھے اور جو لوگ ہمارے پاس آتے تھے ہم ان کو بھی کھلاتے تھے؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت وکیع نے کہا۔ میں تو اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25892، ترقيم محمد عوامة 24791)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 25893
٢٥٨٩٣ - قال: فقال وكيع: لا ادعها ابدا.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25893، ترقيم محمد عوامة ---)