صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلاَتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمْعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ:
باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3099
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ، فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں (کریب) نے ان (حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا، کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو (سواری سے) نیچے اترے پیشاب سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور زیادہ تکمیل کے ساتھ وضو نہیں کیا۔ میں نے آپ سے عرض کی: نماز؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد آپ (پھر) سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو آپ (سواری سے) نیچے اترے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے پڑاؤ کی جگہ میں بٹھایا، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ نے وہ پڑھی۔ اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3099]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے، جب گھاٹی کے پاس پہنچے، تو سواری سے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور پورا وضو نہیں کیا، (ہلکا وضو کیا) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، نماز پڑھنا چاہتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہے۔“ اور سوار ہو گئے، جب مزدلفہ پہنچے، اتر کر وضو کیا اور کامل وضو کیا، پھر تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہر انسان نے اپنا اونٹ اپنی جگہ پر بٹھایا، پھر عشاء کی تکبیر کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، اور دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3099]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3100
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي، فَقَالَ: " الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ".
یحییٰ بن سعید نے زبیر کے مولیٰ موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: عرفہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی کی طرف چلے گئے (پھر) اس کے بعد میں نے (وضو کے لیے) آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا اور عرض کی، آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3100]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی کے وقت قضائے حاجت کے لیے کسی گھاٹی میں گئے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لیے پانی ڈالا اور پوچھا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز گاہ آ گے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3101
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
عبداللہ بن مبارک نے ابراہیم بن عقبہ سے انہوں نے کریب مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے (کنایتاً) کہا کہ آپ نے پانی نہیں بہایا۔۔۔ کہا: آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ کہا: پھر آپ چلے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں (اکٹھی) ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3101]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے، جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اتر کر پیشاب کیا، (حضرت اسامہ نے پیشاب کے لیے، پانی بہایا کا کنایہ نہیں کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، لیکن وضو میں تکمیل مرات نہیں کیا، میں نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آ گے ہے۔“ پھر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3102
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ابوخیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے کریب نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟ کہا: ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب (کی نماز) کے لیے (اپنی سواریاں) بٹھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے (کنایہ کرتے ہوئے) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی۔ پھر سب لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انہوں نے ابھی (پالان) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوائی، پھر انہوں نے (پالان) کھولے۔ میں نے کہا: جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہو گئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3102]
کریب کہتے ہیں، میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، جب آپ عرفہ کی شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے تھے، تو آپ نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، ہم اس گھاٹی پر پہنچے، جہاں لوگ مغرب کے لیے اونٹوں کو بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھا کر پیشاب کیا، (اسامہ نے پانی بہایا نہیں کہا) پھر پانی منگوایا، اور خفیف وضو کیا، (تین دفعہ نہیں کیا) تو میں نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آ گے ہے۔“ پھر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے اپنی جگہوں میں اونٹ بٹھائے، پالان نہیں کھولے، حتی کہ اقامت کہلوا کر نماز عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے پالان کھولے، میں نے پوچھا، صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا، فضل بن عباس رضی الہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ سوار ہو گئے، اور میں نے اس کے پہلے جانے والوں کے ساتھ پیدل چل پڑا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3103
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ".
محمد بن عقبہ نے کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درے پر تشریف لائے جہاں امراء (حکمران) اترتے ہیں۔ آپ (سواری سے) اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے پانی بہایا کا لفظ نہیں کہا (بلکہ یوں کہا:) پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3103]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درہ پر پہنچے، جہاں (بنو امیہ کے) امراء اترتے ہیں، اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، (اسامہ نے بَالَ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3104
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
عطاء مولیٰ بن سبا ع نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو وہ آپ کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے، جب آپ گھاٹی پر پہنچے، آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، جب لوٹے تو میں نے ایک برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا، پھر آپ مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3104]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ہیں، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر پہنچے، تو اپنی سواری کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1286 ترقیم شاملہ: -- 3105
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، قَالَ أُسَامَةُ: فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسی حالت میں مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3105]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، اسامہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اسامہ نے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمول کے مطابق چلتے رہے، یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1286 ترقیم شاملہ: -- 3106
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں موجود تھا۔ یا کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے (واپسی پر) انہیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے، جب کشادہ جگہ پاتے تو (سواری کو) تیز دوڑاتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3106]
ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میری موجودگی میں اسامہ سے پوچھا گیا، یا میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عرفات سے واپسی پر اپنے پیچھے سوار کیا تھا، میں نے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی کے وقت کیسے چلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، معمولی تیز رفتار چل رہے تھے، جب کچھ کشادہ جگہ آتی تو تیزی میں اضافہ کر دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1286 ترقیم شاملہ: -- 3107
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر اور حمید بن عبدالرحمان نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حمید کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”ہشام نے کہا: نص (تیز رفتاری میں) عنق سے اوپر کا درجہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3107]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جس میں حمید کی روایت میں یہ اضافہ ہے، نَص میں عُنُق سے تیزی زیادہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1287 ترقیم شاملہ: -- 3108
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ "،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، (کہا:) مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3108]
حضرت ابو ایوب رضی الله تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3108]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة