🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيَالِي قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1293 ترقیم شاملہ: -- 3128
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3128]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور گھر والوں کے ساتھ پہلے بھیج دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1294 ترقیم شاملہ: -- 3129
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قُلْتُ: أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ، قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ، قُلْتُ لَهُ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ.
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے عطاء نے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحر کے وقت مزدلفہ سے اونٹوں پر لدے بوجھ کے ساتھ (جس میں کمزور افراد بھی شامل ہوتے ہیں) روانہ کر دیا (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء سے کہا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ نے مجھے لمبی رات (کے وقت) روانہ کر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں صرف یہی (کہا:) کہ سحر کے وقت روانہ کیا۔ میں نے ان سے کہا: (کیا) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (یہ بھی) کہا: ہم نے فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں؟ اور انہوں نے فجر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: مجھ سے صرف یہی الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3129]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، مزدلفہ سے سحری کے وقت اپنے سامان کے ساتھ روانہ کر دیا تھا، ابن جریج کہتے ہیں، میں نے عطاء سے پوچھا، کیا آپ تک یہ روایت پہنچی ہے، کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، مجھے رات رہتے بھیجا؟ اس نے جواب دیا، نہیں، مگر یہ الفاظ کہ سحر کے وقت، میں نے ان سے پوچھا، کیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے فجر سے پہلے کنکریاں پھینکی، اور انہوں نے فجر کی نماز کہاں پڑھی؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ بالا الفاظ ہی کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3129]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1294
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1295 ترقیم شاملہ: -- 3130
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ، فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے، اور جتنا میسر ہوتا اللہ کا ذکر کرتے، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے منیٰ آ جاتے اور کچھ اس کے بعد آتے۔ پھر جب وہ (سب لوگ منیٰ آ جاتے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کمزور لوگوں) کو رخصت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3130]
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، اپنے ضعیف گھر والوں کو پہلے روانہ کر دیتے تھے، وہ مزدلفہ میں رات کو مشعر حرام کے پاس ٹھہر جاتے، اور جب تک چاہتے اللہ کا ذکر کرتے، پھر وہ امام کے (مشعر حرام میں) وقوف اور روانگی سے پہلے چل پڑتے، ان میں سے بعض منیٰ میں نماز فجر کے وقت پہنچ جاتے، اور بعض اس کے بعد پہنچتے، جب وہ پہنچ جاتے، تو جمرہ کو کنکریاں مارتے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے، ان کو (ضعیفوں کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں