صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
75. بَابُ اسْتِحُبَابِ الذِّكْرِ إِذَا رَكِبَ دَابَّتَهُ مُتَوَجِّهَا لَسَفَرِ حَجُّ أَوْ غَرْرِهِ وَبَيَانِ الْأَفْضَلِ مِنْ ذٰلِكَ الذِّكْرِ
باب: مسافر کو حج وغیرہ کے موقع پر سواری پر سوار ہو کر ذکر و ازکار کرنا مستحب ہے، اور اس ذکر میں سے سب سے افضل ذکر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1342 ترقیم شاملہ: -- 3275
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، عَلَّمَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُون، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنْا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَإِذَا رَجَعَ، قَالَ: " هُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ".
حضرت علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سفر میں جانے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «سبْحانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ.» ”پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں {الزخرف: 13، 14} اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور ایسے کام کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرے۔ اے اللہ! ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہم پر تھوڑا کر دے۔ اے اللہ تو ہی سفر میں رفیق سفر اور گھر میں نگران ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور اپنے مال اور گھر والوں میں برے حال میں لوٹ کر آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (یہ تو جاتے وقت پڑھتے) اور جب لوٹ کر آتے تو بھی یہی دعا پڑھتے مگر اس میں اتنا زیادہ کرتے کہ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ.» ”ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے، خاص اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3275]
علی ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر باہر روانہ ہونے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے، تین دفعہ ” «اَللهُ اَكْبَرُ» “ کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ” ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ”پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہماری سواری کے لیے اپنی اس مخلوق کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ہے اور ہمارے قابو میں کر دیا۔ اور خود ہم میں اس کی طاقت نہ تھی، کہ ہم اپنی ذاتی تدبیر و طاقت سے اس طرح قابو یافتہ ہو جاتے، اس نے اپنے فضل و کرم سے ایسا کر دیا۔ اور ہم (بالآخر) اپنے اس مالک کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکوکاری اور پرہیز گاری کی درخواست کرتے ہیں اور ان اعمال کی جو تیری رضا کا باعث ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان کر دے، اور اس کی طوالت کو (اپنی قدرت و رحمت سے) مختصر کر دے، (لپیٹ دے) اے اللہ! تو ہی ہمارا سفر میں رفیق اور ساتھی ہے اور گھر والوں میں نگران اور دیکھ بھال کرنے والا ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سفر کی مشقت اور زحمت سے اور اس بات سے کہ میں کوئی رنج دہ بات دیکھوں اور سفر سے واپسی پر اہل و عیال یا مال و جائیداد میں کوئی بری بات پاؤں۔““ اور جب سفر سے واپس آتے، تب بھی یہی دعا کرتے، اور آخر میں ان کلمات کا اضافہ کرتے: ” «آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم سفر سے واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی حمد و ستائش کرنے والے ہیں۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3275]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1342
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1343 ترقیم شاملہ: -- 3276
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ "،
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو سفر کی مشقت، واپسی میں اکتاہٹ، اکٹھا ہونے کے بعد بکھر جانے، مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و مال میں سے کسی برے منظر سے پناہ مانگتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3276]
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو «وَعْثَاءِ السَّفَرِ» ”سفر کی مشقت“، «كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ» ”رنج دہ واپسی“، «الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ» ”کمال کے بعد زوال“، «دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ» ”مظلوم کی بددعا“ اور «سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ”اہل و عیال اور مال و متاع میں برے نظارہ“ سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3276]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1343
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1343 ترقیم شاملہ: -- 3277
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ: فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ، قَالَ: يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ.
ابومعاویہ (محمد بن خازم) اور عبدالواحد دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، مگر عبدالواحد کی حدیث میں ”مال اور اہل میں“ کے الفاظ ہیں اور محمد بن خازم کی روایت میں ہے، کہا: ”جب آپ واپس آتے تو اہل (کی سلامتی کی دعا) سے ابتدا کرتے“ اور (یہ) دونوں کی روایت میں ہے: ”اے اللہ! میں سفر کی تکان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3277]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اور اساتذہ سے نقل کرتے ہیں، مگر عبدالواحد کی روایت میں «فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ”مال اور گھر والوں میں“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3277]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1343
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة