🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. بَابُ الرَّجُلُ يَأْتَمُّ بِالإِمَامِ وَيَأْتَمُّ النَّاسُ بِالْمَأْمُومِ:
باب: ایک شخص امام کی اقتداء کرے اور لوگ اس کی اقتداء کریں (تو کیسا ہے؟)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q713
وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ائْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلی صف والوں سے) فرمایا تم میری پیروی کرو اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: Q713]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومعاویہ محمد بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تھے تو بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دینے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں اور جب بھی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے لوگوں کو (شدت گریہ کی وجہ سے) آواز نہیں سنا سکیں گے۔ اس لیے اگر عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تو بہتر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم کہو کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں اور اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے۔ اس لیے اگر عمر سے کہیں تو بہتر ہو گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ صواحب یوسف سے کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں کچھ ہلکا پن محسوس فرمایا اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر نشان کر رہے تھے۔ اس طرح چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ جب ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے روکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھ گئے تو ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 713]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل انسان ہیں، اس لیے جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے۔ اگر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو بہتر ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ عرض کریں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل انسان ہیں، اس لیے جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے، لہذا اگر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو بہتر ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ والی عورتیں معلوم ہوتی ہو۔ ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز کا آغاز کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر کچھ تخفیف محسوس فرمائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو آدمیوں کے سہارے چل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ سنی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا: (کہ پیچھے نہ ہٹیں)۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے۔ (گویا) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں