الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب النِّكَاحِ
نکاح کے احکام و مسائل
The Book of Marriage
15. باب زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَنُزُولِ الْحِجَابِ وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ:
باب: نکاح زینب رضی اللہ عنہا اور نزول حجاب اور ولیمہ کا بیان۔
Chapter: The Marriage of Zainab Bint Jahsh, The Revelation of (the verse of) Hijab, and confirmation of the importance of the wedding feast.
حدیث نمبر: 3502
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن حاتم بن ميمون ، حدثنا بهز . ح وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا ابو النضر هاشم بن القاسم ، قالا جميعا: حدثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، عن انس ، وهذا حديث بهز، قال: لما انقضت عدة زينب، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لزيد: " فاذكرها علي "، قال: فانطلق زيد حتى اتاها، وهي تخمر عجينها، قال: فلما رايتها عظمت في صدري، حتى ما استطيع ان انظر إليها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، ذكرها فوليتها ظهري ونكصت على عقبي، فقلت: يا زينب، ارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرك، قالت: ما انا بصانعة شيئا حتى اوامر ربي، فقامت إلى مسجدها، ونزل القرآن وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بغير إذن، قال: فقال: ولقد رايتنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اطعمنا الخبز، واللحم حين امتد النهار، فخرج الناس، وبقي رجال يتحدثون في البيت بعد الطعام، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم واتبعته، فجعل يتتبع حجر نسائه يسلم عليهن، ويقلن: يا رسول الله، كيف وجدت اهلك؟، قال: فما ادري انا اخبرته ان القوم قد خرجوا، او اخبرني، قال: فانطلق حتى دخل البيت، فذهبت ادخل معه فالقى الستر بيني وبينه، ونزل الحجاب، قال: ووعظ القوم بما وعظوا به "، زاد ابن رافع في حديثه: لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه، إلى قوله: والله لا يستحيي من الحق سورة الاحزاب آية 53.حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا جَمِيعًا: حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ، قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ: " فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا، وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي، حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ، قَالَت: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، قَالَ: فقَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ، وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ، فَخَرَجَ النَّاسُ، وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا، أَوْ أَخْبَرَنِي، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَ: وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ "، زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ: لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53.
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ روایت ہے بہز راوی کی جب پوری ہو گئی عدت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی (یعنی بعد طلاق دینے زید کے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان سے میرا ذکر کرو۔ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے اور وہ اپنے آٹے کا خمیر کر رہی تھیں۔ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے جب ان کو دیکھا تو میرے دل میں انکی بڑائی یہاں تک آئی کہ میں ان کی طرف نظر نہ کر سکا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یاد کیا تھا۔ (یہ کمال ایمان کی بات تھی اور نہایت سعادت مندی کی کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے دل میں اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پیغام دیا ہے۔ اس قدر عظمت اور ہیبت ان کی چھا گئی کہ نظر نہ کر سکے اور افسوس ہے کہ اس زمانے کے لوگوں پر کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑائی ذرا خیال میں نہیں آتی اور بے تکلف جھوٹی تاویلیں کرنے لگتے ہیں یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ خاص اس کی زبان وحی ترجمان سے نکلی ہے جس کی شان میں «وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ» وارد ہوا ہے اور «إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ» اترا ہے) غرض میں نے اپنی پیٹھ موڑی اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا اور عرض کیا کہ اے زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پیغام بھیجا ہے۔ اور وہ آپ کو یاد کرتے ہیں (یعنی نکاح کا پیغام دیا ہے) اور انہوں نے فرمایا کہ میں کوئی کام نہیں کرتی ہوں جب تک کہ مشورہ نہیں لے لیتی ہوں اپنے پروردگار سے (یعنی استخارہ نہیں کر لیتی اور اسی وقت وہیں اپنی نماز کی جگہ میں کھڑی ہو گئیں (وہ مسلمانوں کی ماں اللہ آپ پر رحمت کرے) قرآن اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بغیر اذن کے داخل ہو گئے (یعنی یہ آیت اتری «زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ» ۳-الاحزاب:۳۷) یعنی بیاہ دیا ہم نے زینب کو تجھ سے تاکہ مؤمنوں کو حرج نہ ہو اپنے لے پالکوں کی بیبیوں سے نکاح کرنے میں جب وہ اپنی حاجت ان سے پوری کر چکیں اور راوی نے کہا میں نے اپنے سب لوگوں کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو روٹی اور گوشت خوب کھلایا یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور لوگ کھا پی کر باہر چلے گئے اور کئی آدمی رہ گئے جو گھر میں باتیں کرتے رہے کھانا کھانے کے بعد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں رضی اللہ عنہن کے حجروں پر جاتے تھے اور ان پر سلام کرتے تھے اور وہ عرض کرتی تھیں کہ اے رسول اللہ کے! آپ نے کیسا پایا اپنی بی بی کو (یعنی زینب کو)۔ پھر راوی نے کہا میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو خبر دی کہ وہ لوگ چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ داخل ہوئے گھر میں اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اندر جانے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اپنے اور میرے بیچ میں اور پردہ کی آیت اتری۔ اور لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ابن رافع نے یہ بھی زیادہ کیا اپنی روایت میں کہ یہ آیت اتری «لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» ‏‏‏‏ یعنی نہ داخل ہو گھروں میں نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مگر جب اجازت دی جائے تم کو کھانے کی اور نہ انتظار کرو اس کے پکنے کا۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے فرمایا: «وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِى مِنَ الْحَقِّ» کہ اللہ نہیں شرماتا ہے سچی بات سے۔
حدیث نمبر: 3503
Save to word اعراب
حدثنا ابو الربيع الزهراني ، وابو كامل فضيل بن حسين ، وقتيبة بن سعيد ، قالوا: حدثنا حماد وهو ابن زيد ، عن ثابت ، عن انس ، وفي رواية ابي كامل: سمعت انسا، قال: " ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اولم على امراة "، وقال ابو كامل: على شيء من نسائه، ما اولم على زينب، فإنه ذبح شاة.حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ "، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ: عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ، مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً.
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ کسی عورت کا ایسا ولیمہ کیا ہو جیسا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک بکری ذبح کی۔
حدیث نمبر: 3504
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن عمرو بن عباد بن جبلة بن ابي رواد ، ومحمد بن بشار ، قالا: حدثنا محمد وهو ابن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عبد العزيز بن صهيب ، قال: سمعت انس بن مالك ، يقول: " ما اولم رسول الله صلى الله عليه وسلم على امراة من نسائه، اكثر او افضل مما اولم على زينب "، فقال ثابت البناني: بما اولم؟ قال: اطعمهم خبزا، ولحما حتى تركوه.حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ "، فقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: بِمَا أَوْلَمَ؟ قَالَ: أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا، وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ.
‏‏‏‏ وہی مضمون ہے اتنی بات زیادہ ہے کہ کھلایا لوگوں کو روٹی گوشت یہاں تک کہ نہ کھا سکے اور چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 3505
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن حبيب الحارثي ، وعاصم بن النضر التيمي ، ومحمد بن عبد الاعلى ، كلهم عن معتمر ، واللفظ لابن حبيب: حدثنا معتمر بن سليمان، قال: سمعت ابي ، حدثنا ابو مجلز ، عن انس بن مالك ، قال: " لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش دعا القوم فطعموا، ثم جلسوا يتحدثون، قال: فاخذ كانه يتهيا للقيام فلم يقوموا، فلما راى ذلك قام، فلما قام، قام من قام من القوم "، زاد عاصم، وابن عبد الاعلى في حديثهما، قال: فقعد ثلاثة، وإن النبي صلى الله عليه وسلم جاء ليدخل، فإذا القوم جلوس، ثم إنهم قاموا فانطلقوا، قال: فجئت فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم انهم قد انطلقوا، قال: فجاء حتى دخل، فذهبت ادخل فالقى الحجاب بيني وبينه، قال: وانزل الله عز وجل يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه، إلى قوله: إن ذلكم كان عند الله عظيما سورة الاحزاب آية 53.حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ: حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ، قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ "، زَادَ عَاصِمٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، قَالَ: فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53.
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نکاح کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت حجش سے۔ لوگوں کو بلایا اور کھانا کھلایا پھر وہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوتے ہیں۔ گویا کہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ (یہ نہیں اٹھتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ان میں سے کچھ لوگ اٹھ گئے اور عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی روایتوں میں یہ بات زیادہ کی کہ تین آدمی ان میں سے بیٹھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ اندر جائیں تو دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہیں۔ پھر وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ سو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کہ اے ایمان والو! مت داخل ہو گھروں میں نبی کے۔ مگر جب اجازت ملے تم کو کھانے کی اور نہ انتظار کرتے رہو اس کے پکنے کا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ)» ‏‏‏‏ تک۔ یعنی پوری آیت «إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا» تک اتری۔
حدیث نمبر: 3506
Save to word اعراب
وحدثني عمرو الناقد ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح ، قال ابن شهاب : إن انس بن مالك ، قال: " انا اعلم الناس بالحجاب، لقد كان ابي بن كعب يسالني عنه، قال انس: اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عروسا بزينب بنت جحش، قال: وكان تزوجها بالمدينة، فدعا الناس للطعام بعد ارتفاع النهار، فجلس رسول الله وجلس معه رجال بعد ما قام القوم، حتى قام رسول الله فمشى فمشيت معه حتى بلغ باب حجرة عائشة، ثم ظن انهم قد خرجوا فرجع ورجعت، معه فإذا هم جلوس مكانهم، فرجع فرجعت الثانية حتى بلغ حجرة عائشة، فرجع فرجعت، فإذا هم قد قاموا، فضرب بيني وبينه بالستر، وانزل الله آية الحجاب ".وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالَ أَنَسٌ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ، مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ ".
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سب سے زیادہ واقف ہوں حجاب کے اترنے سے اور سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے پوچھا کرتے تھے پھر کہا کہ صبح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولہا بنے ہوئے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے۔ اور ان سے نکاح کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اور لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا جب دن چڑھا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھے اور چند لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعد اس کے کہ سب لوگ چلے گئے اور وہ لوگ یہاں تک بیٹھے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے۔ پھر خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔ اور لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹا تو دیکھا کہ وہ لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے ہیں اسی جگہ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹے اور میں بھی دوبارہ لوٹا یہاں تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کےحجرے تک پہنچے اور پھر لوٹے اور میں بھی لوٹا سو دیکھا کہ وہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور آیت پردہ کی اتری۔
حدیث نمبر: 3507
Save to word اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا جعفر يعني ابن سليمان ، عن الجعد ابي عثمان ، عن انس بن مالك ، قال: تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدخل باهله، قال: فصنعت امي ام سليم حيسا فجعلته في تور، فقالت: يا انس، اذهب بهذا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقل: بعثت بهذا إليك امي وهي تقرئك السلام، وتقول: إن هذا لك منا قليل يا رسول الله، قال: فذهبت بها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: إن امي تقرئك السلام، وتقول: إن هذا لك منا قليل يا رسول الله، فقال: " ضعه "، ثم قال: " اذهب، فادع لي فلانا وفلانا وفلانا ومن لقيت وسمى رجالا "، قال: فدعوت من سمى ومن لقيت، قال: قلت لانس: عدد كم كانوا؟ قال: زهاء ثلاث مائة، وقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا انس، هات التور "، قال: فدخلوا حتى امتلات الصفة والحجرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليتحلق عشرة عشرة، ولياكل كل إنسان مما يليه "، قال: فاكلوا حتى شبعوا، قال: فخرجت طائفة ودخلت طائفة حتى اكلوا كلهم، فقال لي: " يا انس، ارفع "، قال: فرفعت فما ادري حين وضعت كان اكثر ام حين رفعت؟، قال: وجلس طوائف منهم يتحدثون في بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وزوجته مولية وجهها إلى الحائط، فثقلوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم على نسائه، ثم رجع، فلما راوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رجع، ظنوا انهم قد ثقلوا عليه، قال: فابتدروا الباب فخرجوا كلهم وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ارخى الستر، ودخل وانا جالس في الحجرة، فلم يلبث إلا يسيرا حتى خرج علي، وانزلت هذه الآية، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وقراهن على الناس: يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبي سورة الاحزاب آية 53، إلى آخر الآية، قال الجعد: قال: انس بن مالك: انا احدث الناس عهدا بهذه الآيات، وحجبن نساء النبي صلى الله عليه وسلم.حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ، فقَالَت: يَا أَنَسُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ: بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " ضَعْهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ، فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّى رِجَالًا "، قَالَ: فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: عَدَدَ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ، وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ، هَاتِ التَّوْرَ "، قَالَ: فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ "، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ، فقَالَ لِي: " يَا أَنَسُ، ارْفَعْ "، قَالَ: فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ؟، قَالَ: وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ، فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ، ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ، وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ سورة الأحزاب آية 53، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ الْجَعْدُ: قَالَ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ، وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نکاح کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور داخل ہوئے اپنی بی بی رضی اللہ عنہا کے پاس اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ ملیدہ بنایا اور اس کو ایک طباق میں رکھا اور کہا کہ اے انس! اس کو لے جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس سے ثابت ہوا کہ نئے دولہا کے پاس کھانا بھیجنا جس سے ولیمہ میں مدد ہو مستحب ہے) اور عرض کر کہ یہ میری ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے اور سلام عرض کیا ہے اور عرض کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں بہت چھوٹا ہدیہ ہے ہماری طرف سے اے اللہ کے رسول؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں وہ لے گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور میں نے ان سے عرض کیا کہ میری ماں نے آپ کی خدمت میں مجھے بھیجا ہے اور سلام کہا ہے اور عرض کرتی ہیں کہ یہ ہماری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب مبارک میں تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ رکھ دو۔ اور فرمایا: کہ جاؤ اور فلاں فلاں شخص کو ہمارے پاس بلاؤ اور جو تم کو مل جائے۔ اور کئی شخصوں کا نام لیا۔ سو میں ان کو بھی لایا جن کا نام لیا اور جو مجھے مل گیا۔ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہاکہ پھر وہ سب لوگ گنتی میں کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: قریب تین سو کے۔ اور مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اے انس! وہ طباق لاؤ۔ اور وہ لوگ اندر آئے۔ یہاں تک کہ صفہ اور حجرہ بھر گیا (صفہ وہ جگہ جو باہر بیٹھنے کی بنائے جائے جسے دیوان خانہ کہتے ہیں) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دس دس آدمی حلقہ باندھتے جائیں (یعنی جب وہ کھا لیں پھر دوسرے دس بیٹھیں) اور چاہیے کہ ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے۔ (یعنی کھانے کی چوٹی نہ توڑے کہ برکت وہیں سے نازل ہوتی ہے) پھر ان لوگوں نے یہاں تک کھایا کہ سب سیر ہو گئے اور ایک گروہ جاتا تھا کھا کر پھر دوسرا آتا تھا۔ یہاں تک کہ سب لوگ کھا چکے۔ تب مجھ سے فرمایا: کہ اٹھا لے انس! اور میں نے اس برتن کو اٹھایا تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ جب میں نے رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اس وقت اس میں کھانا زیادہ تھا اور بعض لوگ بیٹھے باتیں بناتے رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی صاحبہ (یعنی ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا) دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں اور ان لوگوں کا بیٹھنا آپ کو گراں گزرا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اپنی بیبیوں رضی اللہ عنہن کو سلام کیا اور پھر لوٹ آئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ان لوگوں نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم گراں ہوئے۔ جلد دروازے پر گئے اور باہر نکلے سب کے سب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور یہاں تک کہ پردہ ڈال دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور داخل ہوئے اور میں حجرے میں بیٹھ گیا پھر تھوڑی دیر ہوئی ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طری نکلےاور یہ آیتیں اتریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہرنکل کر لوگوں کے اوپر پڑھیں «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى النَّبِىَّ» ۔ جعد جو راوی ہیں انہوں نے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے پہلے یہ آیتیں میں نے سنی ہیں اور مجھے پہنچی ہیں اور پردہ میں رہنے لگیں بیبیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
حدیث نمبر: 3508
Save to word اعراب
وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، حدثنا معمر ، عن ابي عثمان ، عن انس ، قال: لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب، اهدت له ام سليم حيسا في تور من حجارة، فقال انس: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اذهب فادع لي من لقيت من المسلمين "، فدعوت له من لقيت، فجعلوا يدخلون عليه فياكلون ويخرجون، ووضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على الطعام فدعا فيه، وقال فيه ما شاء الله ان يقول، ولم ادع احدا لقيته إلا دعوته، فاكلوا حتى شبعوا وخرجوا، وبقي طائفة منهم فاطالوا عليه الحديث، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يستحيي منهم ان يقول لهم شيئا، فخرج وتركهم في البيت، فانزل الله عز وجل: يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه سورة الاحزاب آية 53، قال قتادة: غير متحينين طعاما، ولكن إذا دعيتم فادخلوا حتى بلغ ذلكم اطهر لقلوبكم وقلوبهن سورة الاحزاب آية 53.وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فقَالَ أَنَسٌ: فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ "، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا، وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53، قَالَ قَتَادَةُ: غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا، وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ سورة الأحزاب آية 53.
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نکاح ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لئے ملیدہ ہدیہ بھیجا ایک برتن میں پتھر کے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ جو مسلمان تم کو ملے اسے بلا لاؤ۔ سو میں، جو ملا اسے بلا لایا۔ اور وہ لوگ سب داخل ہونے لگے اور کھانے لگے اور نکلتے جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے پر رکھا۔ اور دعا کی اور پڑھا اس پر جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اور میں نے بھی جو مجھے ملا کسی کو نہ چھوڑا ضرور بلا لایا۔ اور سب نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے اور باہر نکلے۔ اور ایک گروہ ان میں سے بیٹھا رہا۔ اور بہت لمبی باتیں کرتا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شرماتے تھے کہ ان کو کچھ کہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیتیں اتاریں جو اوپر مذکور ہوئیں۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.