🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. ما قالوا: في وضع الجزية والقتال عليها
جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33308 ترقیم الشثری: -- 34826
٣٤٨٢٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن اسلم مولى عمر ان عمر كتب إلى عماله: لا تضربوا الجزية على النساء والصبيان، ولا تضربوها إلا على من جرت (عليه الموسى) (١) ، ويختم في اعناقهم، (ويجعل) (٢) جزيتهم على رؤوسهم: على اهل الورق اربعين درهما، ومع ذلك ارزاق المسلمين، وعلى اهل الذهب اربعة دنانير، وعلى اهل الشام منهم مدي حنطة وثلاثة اقساط (زيت) (٣) ، وعلى اهل مصر إردب حنطة وكسوة وعسل -لا يحفظ (نافع) (٤) كم ذلك- وعلى اهل العراق خمسة عشر صاعا حنطة (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٢) في [جـ]: (وجعل).
(٣) في [أ، ب]: (دينار).
(٤) سقط من: [أ].
(٥) صحيح.

حضرت اسلم رحمہ اللہ جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام گورنروں کو خط لکھا: کہ عورتوں اور بچوں سے جزیہ وصول نہ کرو، اور نہ وصول کرو مگر بالغ شخص سے، اور ان کی گردنوں پر مہر لگا دو۔ اور جزیہ ان لوگوں کے پیشہ کے اعتبار سے مقرر کرو۔ چاندی والوں پر چالیس درہم لازم ہیں۔ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی تنخواہیں بھی۔ اور سونے والوں پر چار دینار لازم ہیں۔ اور شام والوں پر دو مد گندم، اور تین قسط دو من زیتون، اور مصر والوں پر چوبیس صاع گندم، کپڑوں کے جوڑے، اور شہد… حضرت نافع رحمہ اللہ ان کی مقدار محفوظ نہ رکھ سکے کہ مقدار کتنی مقرر فرمائی۔ اور عراق والوں پر پندرہ صاع گندم: راوی کہتے ہیں: حضرت عبید اللہ نے جوڑے بھی ذکر فرمائے اور میں اس کو یاد نہ رکھ سکا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34826]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34826، ترقيم محمد عوامة 33308)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34827
٣٤٨٢٧ - قال: قال (عبيد الله) (١) : وذكر كسوة (لا) (٢) احفظها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [هـ].

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34827، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33309 ترقیم الشثری: -- 34828
٣٤٨٢٨ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن ابن طاوس عن ابيه ان إبراهيم بن سعد سال ابن عباس ما يؤخذ من اموال اهل الذمة؟ قال: العفو (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذمیوں سے لیے جانے والے اموال کے متعلق پوچھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ضرورت سے زائد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34828]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34828، ترقيم محمد عوامة 33309)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33310 ترقیم الشثری: -- 34829
٣٤٨٢٩ - حدثنا وكيع (قال) (١) : ثنا (سعيد) (٢) بن سنان (ابو) (٣) سنان عن عنترة ابي وكيع ان عليا كان ياخذ العروض في الجزية، من اهل الإبر الإبر، ومن ⦗٢٣٦⦘ اهل المسال المسال، ومن اهل الحبال الحبال (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب، جـ، ح، ط، هـ]: (سفيان).
(٣) في [ب]: (ابن).
(٤) صحيح.

حضرت عنترہ ابو وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جزیہ میں سامان وصول کرتے تھے، کھیتی والوں سے کھیتی، کھجور والوں سے کھجور، اور رسی ساز سے رسی وصول کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34829]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34829، ترقيم محمد عوامة 33310)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33311 ترقیم الشثری: -- 34830
٣٤٨٣٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن ابي عون محمد بن (عبيد الله) (١) الثقفي قال: وضع عمر بن الخطاب في الجزية على رؤوس الرجال: على الغني ثمانية واربعين (٢) ، وعلى الوسط اربعة وعشرين، وعلى الفقير اثني عشر درهما (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [هـ]: زيادة (درهمًا).
(٣) منقطع؛ أبو عون الثقفي لا يروي عن عمر.

حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے آدمیوں کی حالت کے اعتبار سے ان پر جزیہ مقرر فرمایا: مالدار پر اڑتالیس درہم، متوسط آدمی پر چوبیس درہم اور فقیر پر بارہ درہم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34830، ترقيم محمد عوامة 33311)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33312 ترقیم الشثری: -- 34831
٣٤٨٣١ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن معقل قال: كتب عمر بن عبد العزيز: لا يؤخذ من اهل الكتاب إلا ثلث الجزية، ولا يؤخذ من فار، ولا من ميت، ولا يؤخذ اهل الارض (بالعار) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ويحتمل أنها: (بالغار).
حضرت معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اپنے عمال کی طرف خط لکھا۔ اہل کتاب سے صرف اصل جزیہ وصول کیا جائے گا۔ اور راہ فرار اختیار کرنے والے کی طرف سے اور مردے کی طرف سے کچھ وصول نہیں کیا جائے گا۔ اور زمین والوں کے بھاگنے کی صورت میں کچھ وصول نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34831]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34831، ترقيم محمد عوامة 33312)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں