🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟
اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33395 ترقیم الشثری: -- 34918
٣٤٩١٨ - حدثنا (هشيم) (١) عن عبد العزيز بن صهيب قال: ثنا انس بن مالك قال: قدم ناس من عرينة المدينة فاجتووها فقال لهم رسول الله ﷺ:"إن شئتم ان تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من ابوالها والبانها"، ففعلوا واستصحوا، قال: فمالوا على (الرعاء) (٢) فقتلوهم، واستاقوا ذود رسول الله ﷺ، وكفروا بعد إسلامهم، فبعث في آثارهم فاتي بهم، فقطع ايديهم وارجلهم وسمل اعينهم وتركوا بالحرة حتى ماتوا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (هشام)، ولم يتضح في: [جـ]، وسيأتي في ١٤/ ١٩٧ وفيه: (هشيم).
(٢) في [أ، هـ]: (الراعي).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٠١)، ومسلم (١٦٧١).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ۔ اور ان کے دودھ اور پیشاب میں سے کچھ پیو پس انہوں نے ایسا کیا تو وہ صحت یاب ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ لو گ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور انہوں نے ان کو قتل کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند مویشی ہانک کرلے گئے اور اسلام لانے کے بعد انہوں نے کفر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا پس ان کو پکڑ کر لایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں کو داغا گیا اور انہیں حرہ کے مقام پر چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ یہ لوگ مرگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34918]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34918، ترقيم محمد عوامة 33395)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33396 ترقیم الشثری: -- 34919
٣٤٩١٩ - حدثنا هشيم عن حميد عن انس عن النبي ﷺ مثل ذلك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٨٥)، ومسلم (١٦٧١).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34919]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34919، ترقيم محمد عوامة 33396)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33397 ترقیم الشثری: -- 34920
٣٤٩٢٠ - حدثنا ابن عيينة عن ايوب عن عكرمة عن ابن عباس عن رسول الله ﷺ قال:"من بدل دينه فاقتلوه" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٢٢)، وأحمد (٢٥٥١).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اپنے دین کو تبدیل کرے تو تم اس کو قتل کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34920]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34920، ترقيم محمد عوامة 33397)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33398 ترقیم الشثری: -- 34921
٣٤٩٢١ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد عن قتادة عن حميد بن هلال ان معاذ بن جبل اتى ابا موسى وعنده رجل يهودي فقال: ما هذا؟ قال: هذا يهودي اسلم ثم ارتد، وقد استتابه ابو موسى شهرين، فقال معاذ: لا اجلس حتى اضرب عنقه، (قضاء) (١) الله و (قضاء) (٢) رسول الله ﷺ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (قضى).
(٢) في [أ، هـ]: (قضى).
(٣) ضعيف منقطع، سعيد اختلط، وحميد بن هلال لم يدرك ذلك.

حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رحمہ اللہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آدمی تھا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ یہودی اسلام لایا تھا پھر مرتد ہوگیا اور تحقیق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دو مہینہ اس کو توبہ کے لیے مہلت دی۔ اس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ہرگز نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ اللہ اور اس کے رسول 5 کا یہ فیصلہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34921]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34921، ترقيم محمد عوامة 33398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33399 ترقیم الشثری: -- 34922
٣٤٩٢٢ - حدثنا عبد الرحيم (بن سليمان) (١) عن زكريا عن ابي إسحاق عن عاصم بن ضمرة، قال: (ارتد) (٢) علقمة بن علاثة عن دينه بعد النبي ﷺ فقاتله المسلمون، قال: فابى ان يجنح للسلم، فقال ابو بكر: لا يقبل (منك) (٣) إلا سلم مخزية او حرب مجلية، قال: فقال: وما سلم مخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا انهم في الجنة وان قتلاكم في النار، وتدون قتلانا ولا (ندي) (٤) قتلاكم، فاختاروا سلما مخزية (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (أخبرنا)، وفي [س]: (أنا).
(٣) في [أ، ب]: (منه).
(٤) في [أ، ب]: (ندوا)، وفي [جـ]: (يدى).
(٥) منقطع؛ عاصم بن ضمرة لم يدرك ذلك.

حضرت عاصم بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد، اپنے دین سے مرتد ہوگیا۔ تو مسلمانوں نے اس سے قتال کیا۔ راوی کہتے ہیں: اس نے صلح کے لیے جھکنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا سوائے رسوا کردینے والی صلح کے یا سخت جنگ کے۔ اس نے پوچھا: رسوا کردینے والی صلح سے کیا مراد ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کہ تم ہمارے مردوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں۔ اور یقینا تمہارے مردے جہنم میں ہیں۔ اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے۔ تو ان لوگوں نے رسوائی والی صلح کا انتخاب کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34922]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34922، ترقيم محمد عوامة 33399)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33400 ترقیم الشثری: -- 34923
٣٤٩٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن (مسلم) (١) عن طارق بن شهاب قال: جاء وفد بزاخة: اسد وغطفان إلى ابي بكر يسالونه الصلح فخيرهم ابو بكر بين الحرب (المجلية) (٢) او السلم المخزية، قال: فقالوا: هذا الحرب المجلية قد عرفناها، فما السلم المخزية؟ قال: قال ابو بكر: تؤدون الحلقة والكراع، وتتركون اقواما (يتبعون) (٣) اذناب الإبل حتى يرى الله خليفة نبيه ﷺ والمسلمين امرا يعذرونكم به، وتدون قتلانا ولا ندي قتلاكم، وقتلانا في الجنة وقتلاكم في النار، وتردون ما اصبتم منا ونغنم ما اصبنا منكم، فقام عمر فقال: قد رايت رايا وسنشير عليك، اما ان يؤدوا الحلقة والكراع فنعم ما رايت، واما ان يتركوا اقواما يتبعون اذناب الإبل حتى يرى الله خليفة نبيه ﷺ والمسلمين امرا يعذرونهم به، فنعم ما رايت، واما ان نغنم ما اصبنا منهم ويردون ما اصابوا منا فنعم ما رايت، واما (٤) قتلاهم في النار وقتلانا في الجنة فنعم ما ⦗٢٥٧⦘ رايت، واما ان لا ندي قتلاهم فنعم ما رايت، واما ان يدوا قتلانا فلا، قتلانا قتلوا عن امر الله فلا ديات لهم فتتابع الناس على ذلك (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (أسلم).
(٢) في [أ، ب]: (المحرمة).
(٣) في [أ، ب، س، هـ]: (تتبعون).
(٤) في [هـ]: زيادة (أن).
(٥) صحيح.

حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسد اور غطفان کے بڑے لوگوں کا وفد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے صلح کا سوال کیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے رسوا کردینے والی صلح یا سخت جنگ کے درمیان اختیار دیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے۔ اس سخت اور صفایا کردینے والی جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا۔ یہ رسوا کردینے والی صلح کیا ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم تمام اسلحہ اور گھوڑے دو گے، اور تم لوگوں کو چھوڑ دو گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں۔ یعنی جس کی مرضی پیروی کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی 5 کے خلیفہ اور مسلمانوں کو ایسی بات دکھا دیں جس کی وجہ سے وہ تم لوگوں کو معذور سمجھیں اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے۔ اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں۔ اور جو چیز تم نے ہماری لی ہے وہ تم واپس لوٹاؤ گے اور ہم نے جو تمہارا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تحقیق یہ آپ کی رائے ہے۔ اور عنقریب ہم آپ کو ایک مشورہ دیں گے۔ بہرحال وہ اسلحہ اور گھوڑے دیں گے تو یہ بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی 5 کے خلیفہ اور مسلمانوں کو کوئی ایسی بات دکھلا دے جس کی وجہ سے وہ ان کو معذور سمجھیں یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور ہم نے جو ان کا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اور انہوں نے جو ہمارا مال لیا وہ ہمیں واپس لوٹائیں گے۔ تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ان کے مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ہم ان کے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ ہمارے مقتولین کی دیت ادا کریں گے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ہمارے مقتولین اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں قتل کیے گئے تو ان کے لیے کوئی دیتیں نہیں ہوں گی۔ تو لوگوں نے اس بات پر ان کی موافقت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34923]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34923، ترقيم محمد عوامة 33400)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33401 ترقیم الشثری: -- 34924
٣٤٩٢٤ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن اشعث عن ابن سيرين قال: ارتد علقمة ابن علاثة فبعث ابو بكر إلى امراته وولده فقالت: إن كان علقمة كفر، فإني لم اكفر انا ولا ولدي (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ أشعث بن سوار ضعيف.
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ مرتد ہوگیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی اور بیٹے کی طرف قاصد بھیجا۔ اس کی بیوی نے کہا: اگرچہ علقمہ نے کفر کیا ہے لیکن میں نے کفر نہیں کیا اور نہ ہی میرے بیٹے نے۔ آپ رحمہ اللہ نے یہ بات امام شعبی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی طرح مرتدین کے ساتھ معاملہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34924]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34924، ترقيم محمد عوامة 33401)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34925
٣٤٩٢٥ - فذكر ذلك للشعبي فقال: هكذا فعل بهم -يعني باهل الردة.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34925، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33402 ترقیم الشثری: -- 34926
٣٤٩٢٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن اشعث عن ابن سيرين نحوه، (وزاد فيه) (١) : ثم انه جنح للسلم في زمان عمر فاسلم فرجع إلى امراته كما كان (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) ضعيف؛ أشعث ضعيف.

حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے۔ پھر علقمہ بن علاثہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صلح کے لیے جھک گیا اور اسلام لے آیا۔ پھر اس نے اپنی بیوی کی طرف رجوع کرلیا جیسا کہ وہ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34926]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34926، ترقيم محمد عوامة 33402)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33403 ترقیم الشثری: -- 34927
٣٤٩٢٧ - حدثنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم ان ابا بكر قال: (لو منعوني) (١) عقالا مما اعطوا رسول الله ﷺ لجاهدتهم ثم تلا: ﴿وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل﴾ [آل عمران: ١٤٤] ، إلى آخر الآية (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (لو منعوني).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك أبا بكر.

حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ لوگ مجھے اونٹ کی رسی دینے سے بھی رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ضرور ان سے جہاد کروں گا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: اور نہیں ہیں محمد 5 سوائے رسول کے۔ اور تحقیق ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے۔ آیت کے آخرتک آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34927]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34927، ترقيم محمد عوامة 33403)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں