🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا
حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33571 ترقیم الشثری: -- 35108
٣٥١٠٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن هارون بن عنترة (عن ابيه) (١) قال: كان ابي صديقا لقنبر، قال: انطلقت مع قنبر إلى علي فقال: يا امير المؤمنين قم معي، قد خبات لك خبيئة، فانطلق معه إلى (بيته) (٢) ، (فإذا انا) (٣) بسلة مملوءة جامات من ذهب وفضة، فقال: يا امير المؤمنين، إنك لا تترك إلا شيئا قسمته او انفقته، فسل سيفه فقال: ويلك، لقد احببت ان تدخل بيتي نارا كبيرة ثم استعرضها بسيفه فضربها فانتثرت بين إناء مقطوع نصفه وثلثه، قال: علي بالعرفاء، فجاؤا فقال: اقسموا هذه بالحصص، قال: ففعلوا وهو يقول: يا صفراء يا بيضاء (غري) (٤) غيري قال: وجعل يقول: ⦗٣٠٧⦘ هذا (جناي) (٥) وخياره فيه … إذ كل (جان) (٦) يده إلى فيه (٧) قال: (و) (٨) في بيت المال مسال وإبر، وكان ياخذ من كل قوم خراجهم من عمل ايديهم، قال: وقال للعرفاء: اقسموا (هذا) (٩) ، قالوا: لا حاجة لنا فيه، قال: والذي نفسي بيده لنقسمنه خيره مع شره (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (بنيه).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [ط، هـ]: (غوى).
(٥) في [أ، ب]: (خباي).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (جار).
(٧) في [جـ]: زيادة (و).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [أ، ب]: (هذه).
(١٠) حسن؛ عنترة صدوق.

حضرت عنترہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد قنبر کے دوست تھے۔ وہ فرماتے ہیں میں قنبر کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اُٹھیئے! میرے ساتھ چلیے۔ تحقیق میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ مال پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے۔ تو وہاں ایک ٹوکری سونے اور چاندی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! بیشک آپ رضی اللہ عنہ کوئی چیز نہیں چھوڑتے مگر یہ کہ اس کو تقسیم کردیتے ہیں یا اس کو خرچ کردیتے ہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونت لی۔ اور فرمایا: ہلاکت ہو۔ تو چاہتا ہے کہ تو میرے گھر میں اتنی بڑی آگ داخل کر دے! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بےدھیانی میں اپنی تلوار سیدھی کی اور اس ٹوکری پر ماری تو اس کا آدھا اور ایک تہائی کٹے ہوئے برتن کے درمیان بکھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نگرانوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ لوگ آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس مال کو حصوں میں تقسیم کرو۔ انہوں نے ایسا کردیا اور آپ رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے تھے: اے سونا چاندی! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ میں ڈالنا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ یہ شعر بھی پڑھ رہے تھے۔ ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ۔ راوی کہتے ہیں: بیت المال میں چھوٹی اور بڑی سوئیاں تھیں۔ جو آپ رضی اللہ عنہ لوگوں سے بطور خراج کے وصول کرتے تھے ان کے ہاتھوں کی محنت کے بقدر، آپ رضی اللہ عنہ نے نگرانوں سے کہا: ان کو تقسیم کرلو۔ انہوں نے کہا: ہمیں اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ ہم ضرور تقسیم کریں گے اس مال کو اس کی برائی کے ساتھ ہی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35108]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35108، ترقيم محمد عوامة 33571)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33572 ترقیم الشثری: -- 35109
٣٥١٠٩ - حدثنا ابو اسامة عن الحسن بن الحكم النخعي قال: حدثتني امي عن ام (عثمان) (١) ام ولد لعلي (قالت) (٢) : جئت عليا وبين يديه قرنفل مكبوب في الرحبة، فقلت: يا امير المؤمنين، هب لابنتي من هذا القرنفل قلادة (٣) ، فقال: هكذا، ونقر بيده (ادني درهما) (٤) ، فإنما هذا مال المسلمين، وإلا فاصبري حتى ياتي حظنا منه لنهب لابنتك قلادة (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ح، ط، س، هـ]: (عفان)، وسيأتي الخبر في ١٣/ ٢٨٦ [٣٧٢٣١] وفيه (أم عثمان)، وفي ذخائر العقبى ١/ ١٣٤: (أم عثمان).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قرنفل).
(٤) في [هـ]: (ارمي درهم).
(٥) مجهول؛ لجهالة أم الحسن بن الحكم ومن روت عنها.

حضرت ام عفان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد ہیں۔ کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اس حال میں کہ ان کے سامنے صحن میں لونگ کے رنگ کا ہار پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ لونگ کے رنگ کا ہار میری بیٹی کو ہبہ کردیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: یہ والا۔ میں درہم کے قریب ہوگئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسلمانوں کا مال ہے مگر تو صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمارا حصہ بھی آجائے تو ہم یہ ہار تیری بیٹی کو ہبہ کردیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35109]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35109، ترقيم محمد عوامة 33572)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33573 ترقیم الشثری: -- 35110
٣٥١١٠ - حدثنا ابو معاوية قال: ثنا الاعمش عن عمرو بن مرة عن ابي صالح الذي كان يخدم ام كلثوم بنت علي قال: قالت: يا ابا صالح، كيف لو رايت امير ⦗٣٠٨⦘ المؤمنين واتي باترج، فذهب حسن (او) (١) حسين يتناول منه اترجة، (فانتزعها) (٢) من يده، (وامر به) (٣) (فقسمها) (٤) بين الناس (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (و).
(٢) في [أ، ب]: (فنزعها).
(٣) في [أ، ب]: (وأمراته).
(٤) في [جـ]: (فقسم).
(٥) صحيح؛ أبو صالح هو الحنفي كما في فضائل الصحابة لأحمد (٩٠١)، وشرح مشكل الآثار ١١/ ١٢٥.

حضرت ابو صالح رحمہ اللہ جو حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ ا کی خدمت کیا کرتے تھے فرماتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: اے ابو صالح! تیرا کیا حال ہوتا اگر تو امیر المؤمنین کو دیکھ لیتا اس حال میں کہ ان کے پاس مالٹے لائے گئے اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ گئے اور ان میں سے ایک مالٹا لے لیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سے وہ مالٹا چھین لیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور ان مالٹوں کو فوراً لوگوں میں تقسیم کردیا گیا؟! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35110، ترقيم محمد عوامة 33573)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33574 ترقیم الشثری: -- 35111
٣٥١١١ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد (العمي) (١) عن مالك بن دينار عن الحسن ان رجلا سال النبي ﷺ زمام شعر من الفيء فقال رسول الله ﷺ:" (يسالني) (٢) زماما من النار، ما كان ينبغبى لك ان تسالنيه وما ينبغي لي ان اعطيكه" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (القمي).
(٢) في [أ، ب]: (تسألني).
(٣) مرسل، الحسن تابعي.

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال غنیمت میں موجود بالوں سے بنی ہوئی لگام مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھ سے آگ کی لگام مانگ رہا ہے۔ اور تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ تو اس کا مجھ سے سوال کرے۔ اور نہ میرے لیے مناسب ہے کہ یہ میں تجھے عطا کردوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35111، ترقيم محمد عوامة 33574)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33575 ترقیم الشثری: -- 35112
٣٥١١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن إبراهيم بن (المهاجر) (١) عن قيس ابن ابي حازم الاحمسي قال: اتى رسول الله ﷺ رجل بكبة من شعر من الغنيمة فقال: يا رسول الله هبها لي فإنا اهل بيت (يعالج) (٢) الشعر، قال:"نصيبي منها لك" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (المهاجرين).
(٢) في [أ، ب]: (نعالج).
(٣) مرسل؛ قيس بن أبي حازم تابعي.

حضرت قیس بن ابی حازم احمس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے ایک بالوں کا بنا ہو اکپڑا لایا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول 5! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ ہدیہ کردیں پس میں گھر بار والا ہوں اس کے ذریعہ بالوں کا علاج کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جو میرا حصہ ہوگا وہ تیرا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35112، ترقيم محمد عوامة 33575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33576 ترقیم الشثری: -- 35113
٣٥١١٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا بن ابي ذئب عن العباس بن (فضل) (١) عن (ابيه فضل) (٢) بن رافع عن جده ابي رافع قال: كنت خازنا لعلي قال: زينت ابنته بلؤلؤة من المال قد عرفها، فرآها عليها، فقال: من اين لها هذه؟ إن قال: زينت ابنته بلؤلؤة من المال قد عرفها، فرآها عليها، فقال: من اين لها هذه؟ إن لله علي ان اقطع يدها، قال: فلما رايت ذلك قلت: يا امير المؤمنين زينت بها بنت اخي، ومن اين كانت تقدر عليها؟ فلما راى ذلك سكت (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ: (فضيل).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (عن عبد اللَّه)، وانظر: الجرح والتعديل ٧٣/ ٦٠، والتاريخ الكبير ٧/ ١١٥، والأوسط ١/ ٧٧.
(٣) مجهول؛ لجهالة العباس بن ففمل، أخرجه الطبري في التاريخ ٣/ ١٦٣.

حضرت عبید اللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت رافع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خزانچی تھا۔ میں نے مال میں سے ایک موتی کا ہار آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو پہنا دیا جسے آپ رضی اللہ عنہ نے پہچان لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ ہار اس پر دیکھا تو فرمایا: اس کے پاس یہ کہاں سے آیا؟ یقینا اللہ رب العزت نے مجھ پر یہ بات لازم کردی ہے کہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں۔ راوی فرماتے ہیں: کہ میں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! یہ ہار میں نے اپنی بھتیجی کو پہنایا تھا ورنہ یہ کہاں اس پر قدرت رکھ سکتی ہے؟ جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35113، ترقيم محمد عوامة 33576)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33577 ترقیم الشثری: -- 35114
٣٥١١٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد الرحمن بن عجلان البرجمي عن جدته قالت: كان علي يقسم فينا (الابزار) (١) (بصرر) (٢) : (صرة) (٣) الكمون و (الحرف) (٤) وكذا وكذا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الأنوار).
(٢) في [جـ]: (بصرره).
(٣) في [جـ]: (صرر).
(٤) أي: الرشاد، وفي [أ، هـ]: (الحرث).
(٥) مجهول؛ لجهالة جدة عبد الرحمن.

حضرت عبد الرحمن بن عجلان البرجمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی دادی نے فرمایا: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان مصالحہ خوشوں سمیت تقسیم فرماتے تھے۔ زیرہ کے خوشے اور رائی کے دانوں کے خوشے اتنی اور اتنی مقدار میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35114، ترقيم محمد عوامة 33577)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33578 ترقیم الشثری: -- 35115
٣٥١١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا ربيع بن حسان عن امه قالت: كان علي يقسم فينا الورس والزعفران (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أم الربيع بن حسان.
حضرت ربیع بن حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے فرمایا: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان ہلدی اور زعفران تقسیم فرماتے تھے۔ اور ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حجرہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بکھرے ہوئے دانوں کو دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو جمع کرنا شروع کردیا اور یوں فرما رہے تھے۔ اے آل علی رضی اللہ عنہ! تم سیر ہوگئے! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35115]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35115، ترقيم محمد عوامة 33578)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35116
٣٥١١٦ - (قال) (١) : فدخل علي الحجرة مرة فراى حبا (منثورا) (٢) ، فجعل ⦗٣١٠⦘ يلتقط ويقول: شبعتم يا آل علي (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قالت).
(٢) في [جـ]: (منتورا).
(٣) منقطع؛ ربيع لم يدرك عليًا.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35116، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33579 ترقیم الشثری: -- 35117
٣٥١١٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان (عن) (١) سعيد بن عبيد عن شيخ لهم ان عليا اتي برمان فقسمه بين الناس فاصاب مسجدنا سبع رمانات او ثمان رمانات (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (بن)، وسعيد بن عبيد هو الطائي، وانظر: السنة للخلال (٦١٦).
(٢) مجهول، لإبهام الشيخ.

حضرت سفیان بن سعید بن عبید رحمہ اللہ اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے پاس انار لائے گئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا تو ہماری مسجد والوں کو سات یا آٹھ انار ملے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35117، ترقيم محمد عوامة 33579)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں