مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
85. ما قالوا: في المشركين يدعون المسلمين إلى غير ما ينبغي، أيجيبونهم أم لا، ويكرهون عليه؟
ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو؟
ترقیم عوامۃ: 33708 ترقیم الشثری: -- 35247
٣٥٢٤٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن ان عيونا لمسيلمة اخذوا رجلين من المسلمين فاتوه بهما فقال لاحدهما: اتشهد ان محمدا رسول الله؟ قال: نعم، (فقال) (١) : اتشهد ان محمدا رسول الله؟ قال: نعم، قال: اتشهد اني رسول الله؟ قال: فاهوى إلى اذنيه فقال: إني اصم، قال: ما لك إذا قلت لك: (تشهد) (٢) اني رسول الله قلت: إني اصم، فامر به فقتل، وقال للآخر: (اتشهد) (٣) ان محمدا رسول الله؟ قال: نعم (فقال) (٤) : اتشهد اني رسول الله؟ قال: نعم، فارسله، فاتى النبي ﷺ فقال: (يا) (٥) رسول الله هلكت، قال:"وما شانك؟"، ⦗٣٤٩⦘ (فاخبره) (٦) بقصته وقصة صاحبه، فقال:"اما صاحبك فمضى على إيمانه، واما انت فاخذت بالرخصة" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) في [أ، ب]: (أتشهد).
(٣) في [أ، ب]: (أشهد).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (قال).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [هـ]: (فأخبروه).
(٧) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٣٢٦).
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے جاسوسوں نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کو پکڑ لیا اور وہ ان دونوں کو مسیلمہ کذاب کے پاس لے گئے۔ اس نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد 5 اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس نے پھر پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد 5 اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس نے پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان صحابی نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں تو بہرا ہوں۔ مسیلمہ کذاب نے کہا: تجھے کیا مصیبت ہے جب میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو تو کہتا ہے کہ میں بہرا ہوں؟ پس اس نے حکم دیا اور ان صحابی کو قتل کردیا گیا۔ مسیلمہ کذاب نے دوسرے شخص سے کہا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد 5 اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس نے پھر پوچھا: کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں! پس اس نے اس ان کو چھوڑ دیا: یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! میں ہلاک ہوگیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ انہوں نے اپنا اور اپنے ساتھی کا واقعہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہر حال تیرا ساتھی تو ایمان کی حالت میں مرا، اور رہے تم تو تم نے رخصت پر عمل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35247، ترقيم محمد عوامة 33708)
ترقیم عوامۃ: 33709 ترقیم الشثری: -- 35248
٣٥٢٤٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مخارق بن خليفة (١) عن طارق بن شهاب عن سلمان قال: دخل رجل الجنة في ذباب ودخل رجل النار (في ذباب) (٢) ، (قال) (٣) : مر رجلان على قوم قد عكفوا على صنم لهم وقالوا: لا يمر (علينا) (٤) اليوم احد إلا قدم شيئا، فقالوا لاحدهما: قدم شيئا، فابى فقتل، وقالوا للآخر: قدم شيئا، فقالوا: قدم ولو ذبابا، فقال: (وإيش) (٥) ذباب، فقدم ذبابا فدخل النار، فقال سلمان: فهذا دخل الجنة في ذباب، ودخل هذا النار في ذباب (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (عن طلحة).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (مكرره).
(٥) في [جـ]: (ما سى).
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٢٢، وفي العلل ٢/ ٧٥ وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٣، والخطيب في الكفاية ١/ ١٨٥، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٣٤٣).
حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور ایک آدمی مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس طرح کہ دو آدمی ایک قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں کی عبادت میں مشغول تھی انہوں نے کہا آج ہم پر کوئی نہیں گزرے گا مگر یہ کہ وہ کچھ نہ کچھ پیش کرے گا، تو انہوں نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا: کوئی چیز پیش کرو۔ اس نے انکار کردیا تو اسے قتل کردیا گیا۔ انہوں نے دوسرے سے کہا: کوئی چیز پیش کرو، وہ کہنے لگا، میرے پاس تو کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پیش کرو اگرچہ مکھی ہی ہو۔ اس آدمی نے دل میں کہا: کہ صرف مکھی پیش کروں؟ اور اس نے مکھی پیش کردی پس یہ شخص جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس پر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ شخص مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور یہ شخص مکھی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35248، ترقيم محمد عوامة 33709)
ترقیم عوامۃ: 33710 ترقیم الشثری: -- 35249
٣٥٢٤٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) جرير بن حازم عن قيس بن سعد عن عطاء في رجل اخذه العدو فاكرهوه على شرب الخمر واكل الخنزير، قال: إن اكل وشرب فرخصة، وإن قتل اصاب خيرا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
حضرت قیس بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اس شخص کے بارے میں جس کو دشمن نے پکڑ لیا اور اس کو شراب پینے اور خنزیر کھانے پر مجبور کیا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر وہ خنزیر کھاتا ہے اور شراب پی لیتا ہے۔ تو یہ رخصت ہے۔ اور اگر اسے قتل کردیا جاتا ہے تو ا س نے بھلائی کو پا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35249، ترقيم محمد عوامة 33710)
ترقیم عوامۃ: 33711 ترقیم الشثری: -- 35250
٣٥٢٥٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن برد عن مكحول قال: ليس في الخمر رخصة، لانها لا تروي.
حضرت برد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: شراب پینے میں رخصت نہیں ہے اس لیے کہ یہ کبھی سیراب نہیں کرتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35250، ترقيم محمد عوامة 33711)
ترقیم عوامۃ: 33712 ترقیم الشثری: -- 35251
٣٥٢٥١ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن عمر بن عطية قال: سمعت ابا جعفر يقول: التقية لا تحل (إلا كما تحل) (١) الميتة للمضطر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
حضرت عمر بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تقیہ حلال نہیں ہے مگر اس طرح جیسا کہ مردار مجبور کے لیے حلال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35251، ترقيم محمد عوامة 33712)
ترقیم عوامۃ: 33713 ترقیم الشثری: -- 35252
٣٥٢٥٢ - حدثنا مروان عن عوف عن الحسن قال: التقية جائزة للمؤمن إلى يوم القيامة، إلا انه كان لا يجعل في (القتل) (١) تقية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) لعلها: (الفعل)
حضرت عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: تقیہ کرنا مومن کے لیے قیامت کے دن تک جائز ہے مگر یہ کہ وہ کسی کو قتل کرنے میں تقیہ نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35252، ترقيم محمد عوامة 33713)
ترقیم عوامۃ: 33714 ترقیم الشثری: -- 35253
٣٥٢٥٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن رجل عن ابن عباس قال: التقية إنما هي باللسان ليست باليد (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الرجل.
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: تقیہ کرنا زبان سے ہوتا ہے ہاتھ سے نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35253، ترقيم محمد عوامة 33714)
ترقیم عوامۃ: 33715 ترقیم الشثری: -- 35254
٣٥٢٥٤ - حدثنا عبد الله بن نمير عن ابي جعفر عن الربيع عن ابي العالية: ﴿إلا ان تتقوا منهم تقاة﴾ [آل عمران: ٢٨] ، قال: التقية باللسان وليس بالعمل.
حضرت ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: ترجمہ: مگر یہ کہ تم بچنا چاہو ان کے شر سے کسی قسم کا بچنا۔ کہ تقیہ کرنا زبان سے ہوتا ہے عمل سے نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35254، ترقيم محمد عوامة 33715)
ترقیم عوامۃ: 33716 ترقیم الشثری: -- 35255
٣٥٢٥٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الاعلى عن ابن الحنفية قال: سمعته يقول: لا إيمان لمن لا تقية له.
حضرت عبد الاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان کامل نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35255، ترقيم محمد عوامة 33716)
ترقیم عوامۃ: 33717 ترقیم الشثری: -- 35256
٣٥٢٥٦ - حدثنا علي بن مسهر عن ابي حيان عن ابيه عن الحارث بن سويد عن عبد الله قال: (ما) (١) من كلام اتكلم به بين يدي (سلطان) (٢) يدرا عني (به) (٣) ما بين سوط إلى سوطين إلا كنت متكلما به (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [ب]: (السلطان).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) مجهول؛ لجهالة والد أبي حيان.
حضرت حارث بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کوئی کلام ایسا نہیں ے جو میں کسی بادشاہ کے سامنے کروں اور وہ مجھے اس کے ایک دو کوڑوں سے بچا سکتا تو میں ضرور وہ کلام کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35256، ترقيم محمد عوامة 33717)