مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
144. (باب من أسلم على شيء فهو له)
کوئی شخص کسی شرط پر مسلمان ہو اس کو وہ (مطلوبہ چیز) ملے گی
ترقیم عوامۃ: 34117 ترقیم الشثری: -- 35674
٣٥٦٧٤ - حدثنا صفوان بن عيسى عن الحارث بن ابي (ذباب) (١) عن منير بن عبد الله عن ابيه عن سعد بن ابي ذباب قال: قدمت على رسول الله ﷺ فاسلمت وقلت: يا رسول الله اجعل لقومي ما اسلموا عليه، قال: ففعل رسول الله ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذياب).
(٢) مجهول؛ لجهالة منير بن عبد اللَّه وابنه، أخرجه أحمد (١٦٧٢٨)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٧١، وأبو عبيد في الأموال (١٤٨٧)، وابن زنجويه (٢٠١٧)، والبزار (٨٧٨/ كشف)، والطبراني (٥٤٥٨)، والبيهقي ٤/ ١٢٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٦٨٥).
حضرت سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلمان ہوگیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! میری قوم کیلئے کچھ مقرر فرما دیں جس پر وہ اسلام لانے کے لیے تیار ہوجائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے مقرر کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35674]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35674، ترقيم محمد عوامة 34117)
ترقیم عوامۃ: 34118 ترقیم الشثری: -- 35675
٣٥٦٧٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا ابان بن عبد الله البجلي قال: ثنا عثمان بن ابي حازم عن صخر بن (العيلة) (١) قال: اخذت عمة المغيرة فقدمت بها إلى رسول الله ﷺ، وجاء المغيرة بن شعبة فسال رسول الله ﷺ (عمته) (٢) واخبر انها عندي، فدعاني رسول الله ﷺ فقال:"يا صخر، إن القوم إذا اسلموا احرزوا اموالهم"، قال: فدفعناها إليه ﷺ وقد كان رسول الله ﷺ اعطاني (ماء لبني) (٣) سليم فاسلموا فاتوا نبي الله ﷺ فسالوه الماء، فقال رسول الله ﷺ:"يا صخر، إن القوم إذا ⦗٤٦٥⦘ اسلموا احرزوا اموالهم ودماءهم فادفعه إليهم"، فدفعته (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (العلية).
(٢) سقط من. [أ، ب، جـ، ط، م]، وانظر: مسند ابن أبي شيبة (٦٢١).
(٣) في [أ، ب]: (مال بني).
(٤) مجهول؛ لجهالة عثمان بن أبي حازم، أخرجه أحمد (١٨٧٧٨)، وأبو داود (٣٠٦٧)، والبخاري في التاريخ ٤/ ٣١٠، والدارمي (١٦٧٣)، وابن سعد ٦/ ٣١، والطبراني (٧٢٧٩)، والبيهقي ٩/ ١١٤، وابن الأثير ٣/ ١٢.
حضرت صخر بن عیلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ کے چچا کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اتنے میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اپنے چچا کا پوچھا، ان کو خبر دی کہ وہ میرے پاس ہے، مجھے رسول اکرم 5 نے بلایا اور فرمایا: اے صخر! جب قوم مسلمان ہوجائے، تو وہ اپنے اموال کو محفوظ کرلیتے ہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو دے دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنو سلیم کیلئے پانی عطا فرمایا، پس وہ مسلمان ہوگئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کا سوال کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے صخر! جب قوم مسلمان ہوجائے تو وہ اپنی جان اور مال کو بچا لیتے ہیں، پس اس کو واپس کر دے، پس پھر میں نے اس کو واپس کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35675]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35675، ترقيم محمد عوامة 34118)
ترقیم عوامۃ: 34119 ترقیم الشثری: -- 35676
٣٥٦٧٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح قال: سالت عبيد الله ابن عمر عمن اسلم من اهل السواد فقال: من اسلم من اهل السواد ممن له ذمة فله ارضه وماله، ومن اسلم ممن لا ذمة له، وإنما اخذ عنوة فارضه للمسلمين.
حضرت حسن بن صالح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جنگل، دیہات والوں کے اسلام کے متعلق دریافت کیا؟ آپ نے فرمایا: اھل السواد میں سے جو مسلمان ہوا اگر وہ ذمی تھا (جس کا عہد تھا) زمین اور مال اسی کا ہے اور جو اسلام لایا جس کا کوئی ذمہ نہ تھا، (عہد و معاہدہ نہ تھا) اور وہ بزور بازو فتح ہوا تو اس کی زمین مسلمانوں کیلئے ہے، حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مکتوب میں لکھا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35676]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35676، ترقيم محمد عوامة 34119)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35677
٣٥٦٧٧ - قال عبيد الله: هذا في كتاب عمر بن عبد العزيز.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35677، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34120 ترقیم الشثری: -- 35678
٣٥٦٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن ابن ابي نجيح عن مجاهد قال: ايما مدينة فتحت عنوة فاسلم اهلها فهم احرار، واموالهم للمسلمين.
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو بھی شہر بزور بازو فتح ہوا۔ پھر اس کے باشندے اسلام نے آئے تو وہ لوگ آزاد ہوں گے اور ان کا مال مسلمانوں کو ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35678]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35678، ترقيم محمد عوامة 34120)
ترقیم عوامۃ: 34121 ترقیم الشثری: -- 35679
٣٥٦٧٩ - حدثنا يزيد بن المقدام بن شريح عن ابيه عن جده هانئ بن (شريح) (١) ذكر انه وفد إلى رسول الله ﷺ في قومه، (وانه) (٢) لا حضر خروج القوم إلى بلادهم اعطى كل رجل منهم ارضا في بلاده حيث احب (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يزيد)، وانظر: الآحاد والمثاني ٤/ ٤٣٤، والموضح للخطيب ١/ ٥١٤، وشعب الإيمان (٤٩٤٣).
(٢) في [أ، ب]: (وإنما).
(٣) حسن؛ يزيد بن المقدام صدوق، أخرجه البيهقي في شعب الإيمان (٣٣٤٣٧).
حضرت ہانیٔ بن یزید ذکر کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب وفد نے اپنے علاقہ کی طرف روانگی کا ارادہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو اس کے علاقہ میں اس کی پسندیدہ زمین بطور جاگیر کے عطا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35679، ترقيم محمد عوامة 34121)
ترقیم عوامۃ: 34122 ترقیم الشثری: -- 35680
٣٥٦٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن ابي ذئب عن الزهري قال: من اسلم احرز له إسلامه نفسه وماله إلا الارض؛ لانه اسلم وهو في غير منعة.
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جو شخص مسلمان ہوگا وہ اپنے نفس اور مال کو محفوط کرے گا سوائے زمین کے، سوائے اس کے اس لیے کہ وہ بغیر کارروائی اور لڑائی کے مسلمان ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35680]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35680، ترقيم محمد عوامة 34122)
ترقیم عوامۃ: 34123 ترقیم الشثری: -- 35681
٣٥٦٨١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن غالب العبدي قال: حدثني رجل من بني نمير عن ابيه عن جده او جد ابيه انه اتى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله إن ⦗٤٦٦⦘ قومي اسلموا على ان جعلت لهم كذا وكذا، قال:"إن شئت رجعت فيه وتركه افضل" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة الرجل النميري وأبيه.
حضرت غالب العبدی بنو نمیر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! میری قوم اس بات پر ایمان لائی ہے کہ میں ان کو یہ یہ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر آپ چاہو تو رجوع کرلو اس میں اور اس کا چھوڑنا افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35681، ترقيم محمد عوامة 34123)
ترقیم عوامۃ: 34124 ترقیم الشثری: -- 35682
٣٥٦٨٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الله بن (دينار) (١) (البهراني) (٢) ان عمر ابن عبد العزيز قال: اما من اسلم من اهل الارض فله ما اسلم عليه من اهل او مال، واما ارضه فهي كائنة فيما افاء الله على المسلمين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ديار).
(٢) في [هـ]: (البهرالي).
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: زمین والوں میں سے جو مسلمان ہو تو اس کا مال اور اھل و عیال اس کیلئے ہوگا، اور جو اس کی زمین ہے وہ اللہ کی طرف سے غنیمت ہے مسلمانوں کیلئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35682]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35682، ترقيم محمد عوامة 34124)
ترقیم عوامۃ: 34125 ترقیم الشثری: -- 35683
٣٥٦٨٣ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن عطاء والزهري قالا: من السنة ان يكون للرجل ما اسلم عليه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الزهري تابعي.
حضرت عطا اور حضرت زھری d فرماتے ہیں کہ یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی جس پر مسلمان ہو وہ اس کو ملے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35683]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35683، ترقيم محمد عوامة 34125)