🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

147. الرجل يغزو ووالداه حيان أله ذلك؟
کوئی شخص جہاد پر جائے جب کہ اس کے والدین حیات ہوں، اس کو اس کی اجازت ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34141 ترقیم الشثری: -- 35700
٣٥٧٠٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابيه عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله ابا يعك على الجهاد، فقال له النبي ﷺ:"هل لك (والد) (١) ؟"، قال: نعم، قال:"انطلق فجاهد (فيه) (٢) ، ⦗٤٧٢⦘ (فإن فيه) (٣) مجاهدا حسنا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (والدان).
(٢) في [ط، هـ]: (فيهما).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٤) ضعيف؛ عطاء اختلط، أخرجه أحمد (٦٥٢٥) وابن حبان (٤٢١)، وسعيد بن منصور (٢٣٣٣)، وأصله في البخاري (٣٠٠٤)، ومسلم (٢٥٤٩).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نبی 5 کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا آپ کے والد حیات ہیں؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: واپس چلے جاؤ اور ان کی خدمت کر کے جہاد کرو بیشک ان میں آپ کیلئے خدمت کر کے نیکی کمانے کا موقع ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35700]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35700، ترقيم محمد عوامة 34141)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34142 ترقیم الشثری: -- 35701
٣٥٧٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر وسفيان عن حبيب بن ابي ثابت عن ابي العباس المكي عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجل يستاذن النبي ﷺ في الجهاد فقال النبي ﷺ:"احي والداك؟" قال: نعم، قال:" (ففيهما فجاهد) (١) " (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فجاهد فيهما).
(٢) صحيح؛ صرح حبيب بالسماع عند أحمد (٦٧٦٥)، وأخرجه البخاري (٥٩٧٢)، ومسلم (٢٥٤٩).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما سے مروی ہے کہ ایک شخص اللہ کے نبی 5 کی خدمت میں جہاد کی اجازت لینے کیلئے حاضر ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا آپ کے والدین حیات ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان کی خدمت کر کے جہاد کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35701، ترقيم محمد عوامة 34142)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34143 ترقیم الشثری: -- 35702
٣٥٧٠٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن الاعمش عن سالم عن (كريب) (١) قال: جاءت امراة إلى ابن عباس وابنها يريد الغزو وامه تكره له، فقال له ابن عباس: اطع والدتك واجلس عندها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) صحيح.

حضرت کریب سے مروی ہے کہ ایک خاتون اپنے بیٹے کو لے کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی اس کا بیٹا جہاد پر جانا چاہتا تھا اور اس کی والدہ ناپسند کر رہی تھی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اپنی والدہ کی اطاعت کر اور ان کے پاس رہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35702، ترقيم محمد عوامة 34143)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34144 ترقیم الشثری: -- 35703
٣٥٧٠٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا همام عن قتادة عن زرارة بن اوفى قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إني اردت ان اغزو كان ابوي يمنعاني، قال: اطع ابويك واجلس، فإن الروم ستجد من يغزوها غيرك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه المروزي في البر والصلة (٧١).
حضرت زراہ بن اوفیٰ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں جب کہ میرے والدین مجھے منع کر رہے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا، اپنے والدین کی اطاعت کر اور ان کے پاس رہ بیشک تو روم میں اپنے علاوہ بھی بہت سوں کو لڑتے ہوئے عنقریب پائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35703، ترقيم محمد عوامة 34144)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34145 ترقیم الشثری: -- 35704
٣٥٧٠٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة عن ابيه طلحة بن معاوية السلمي قال: جئت رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله إني اريد الجهاد معك في سبيل الله ابتغي بذلك وجه الله، قال:"حية امك؟" ⦗٤٧٣⦘ قلت: نعم، قال:"الزمها"، قلت: ما (ارى) (١) (فهم) (٢) رسول الله ﷺ (٣) (عنى) (٤) ، فاعدت عليه مرارا فقال:"الزم رجليها، فثم الجنة" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (را).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فيهم).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [ب، هـ]: (غني).
(٥) منقطع، فيه شذوذ، رواه ابن ماجه (٢٧٨١) (١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٣٧٢)، عن ابن إسحاق عن محمد بن طلحة عن معاوية بن جاهمة، وأصل الحديث أخرجه أحمد (١٥٥٣٨)، والنسائي ٦/ ١١، والحاكم ٢/ ١٠٤، والبيهقي ٩/ ٢٦، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٣٢) من طريق ابن جريج، قال: أخبرني محمد بن طلحة ابن عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق عن أبيه طلحة عن معاوية بن جاهمة السلمي)، وأخرجه الطبراني (٢٢٠٢)، عنءمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن معاوية ابن جاهمة عن أبيه.

حضرت طلحہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم 5 کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! میں آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں اور اس کے ذریعہ اللہ کی خوشنودی کا طالب ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں: فرمایا ان کی خدمت کو لازم پکڑو میں نے عرض کیا میرا نہیں خیال نہ اللہ کے نبی 5 میری بات سمجھے ہوں، میں نے بار بار اپنی بات دھرائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی والدہ کے پاؤں پکڑ لو (خدمت کرو) جنت وہاں ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35704، ترقيم محمد عوامة 34145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34146 ترقیم الشثری: -- 35705
٣٥٧٠٥ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن ابيه ان رجلين تركا اباهما شيخا كبيرا وغزوا، فبلغ ذلك عمر فردهما إلى ابيهما، وقال: لا تفارقاه حتى يموت (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ عروة لا يروي عن عمر.
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے اپنے ضعیف والد کو تنہا چھوڑا اور جہاد پر چلے گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو واپس کردیا اور فرمایا ان کی وفات تک ان سے جدا مت ہونا، (ان کے ساتھ رہنا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35705، ترقيم محمد عوامة 34146)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34147 ترقیم الشثری: -- 35706
٣٥٧٠٦ - حدثنا ابن عيينة عن (عبيد الله) (١) بن ابي يزيد سال رجل عبيد بن عمير: ايغزو الرجل وابواه كارهان او احدهما؟ قال: لا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) صحيح.

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبید اللہ بن عمیر سے دریافت کیا کہ کیا کوئی شخص اس حالت میں جہاد پر جاسکتا ہے جب کہ اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک اس کے جانے کو ناپسند کر رہا ہو؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35706، ترقيم محمد عوامة 34147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34148 ترقیم الشثری: -- 35707
٣٥٧٠٧ - حدثنا ابن عيينة (عن موسى بن عقبة) (١) عن سالم او عبد الله بن (عتبة) (٢) : اراد محمد بن طلحة الغزو فاتت امه عمر فامره ان يقيم، فلما ولي ⦗٤٧٤⦘ عثمان اراد الغزو فاتت امه عثمان، فامره ان يقيم فقال: إن عمر لم يجبرني او تعزم علي، (فقال) (٣) : لكني اجبرك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [هـ]: (عيينة)، وعند سعيد بن منصور (٢٣٣٧): (عبد اللَّه).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٤) منقطع؛ سالم وعبد اللَّه لم يدركا عمر.

حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت محمد بن طلحہ نے جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انہوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے پھر جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انہوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا اور فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر جبر نہیں فرمایا تھا لیکن میں آپ پر جبر کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35707]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35707، ترقيم محمد عوامة 34148)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34149 ترقیم الشثری: -- 35708
٣٥٧٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن معن بن عبد الرحمن قال: غزا رجل نحو الشام يقال له شيبان، وله اب شيخ كبير، فقال ابوه في ذلك شعرا: اشيبان ما يدريك ان رب ليلة … (غبقتك) (١) فيها و (الغبوق) (٢) حبيب اامهلتني حتى إذا ما تركتني … ارى الشخص كالشخصين وهو قريب اشيبان إن بات الجيوش تحدهم … يقاسون اياما بهن خطوب قال: فبلغ ذلك عمر فرده (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عنقتك).
(٢) في [هـ]: (العنوق).
(٣) منقطع؛ معن بن عبد الرحمن لا يروي عن عمر.

حضرت معن بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ ایک شخص جس کو شیبان کہا جاتا تھا ملک شام کی طرف جہاد میں چلا گیا، اس کا والد بوڑھا تھا، اس کے والد نے اس کی یاد میں اشعار پڑھے! ”اے شیبان! تجھے نہیں معلوم کہ تیرے بعد مجھ پر کتنی راتیں ایسی گزری ہیں جن میں میں نے تجھے یاد کیا اور تیری یاد میرے لیے محبوب ہے۔ جب سے تو مجھے چھوڑ کر گیا ہے مجھے قریب کھڑا ایک شخص دو شخصوں کی طرح لگتا ہے۔ اے شیبان تو ان لشکروں کے ساتھ ہے جو رات اور دن اس حال میں کرتے ہیں کہ وہ مشقت کا شکار ہوتے ہیں۔“ جب اس کے یہ اشعار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچے تو انہوں نے اس کے یٹے کو واپس بلا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35708]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35708، ترقيم محمد عوامة 34149)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34150 ترقیم الشثری: -- 35709
٣٥٧٠٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن هشام عن الحسن قال: إذا اذنت لك امك في الجهاد وانت تعلم ان هواها عندك في الجلوس فاجلس.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حدثني).
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تمہاری والدہ تمہیں جہاد پر جانے کی اجازت دے دیں اور آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ ان کی خواہش ہے کہ آپ نہ جاؤ تو آپ مت جاؤ اس کے پاس ٹھہر جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35709، ترقيم محمد عوامة 34150)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں