🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

184. في الغزو بالنساء
خواتین کو جنگ میں لے کر جانا (خواتین کا جنگ میں شریک ہونا)
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34338 ترقیم الشثری: -- 35901
٣٥٩٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن حسان عن حفصة بنت سيرين عن ام عطية الانصارية قالت: غزوت مع رسول الله ﷺ (سبع) (١) غزوات، اخلفهم في رحالهم، فاصنع لهم الطعام واداوي لهم الجرحى واقوم على المرضى (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨١٢)، وأحمد (٢٠٧٩٢).

حضرت ام عطیۃ الانصاریۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی میں ان کے کجاو وں کے پیچھے ہوتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی اور زخمیوں کو مرہم پٹی کرتی اور مریضوں کا خیال رکھتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35901]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35901، ترقيم محمد عوامة 34338)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34339 ترقیم الشثری: -- 35902
٣٥٩٠٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: ثنا رافع بن سلمة الاشجعي قال: حدثني (حشرج) (٢) (بن) (٣) زياد الاشجعي عن جدته ام ابيه انها غزت مع رسول الله ﷺ خيبر سادسة ست نسوة فبلغ رسول الله ﷺ فبعث إلينا فقال:"بامر من خرجتن"، وراينا فيه الغضب، فقلنا: يا رسول الله خرجنا ومعنا دواء نداوي به، و (نناول) (٤) السهام، ونسقي السويق ونغزل الشعر نعين به في سبيل الله، فقال لنا:"اقمن"، فلما فتح الله عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الخباب).
(٢) في [أ]: (حثرج).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (عن).
(٤) في [أ، ب]: (نتناول).
(٥) مجهول؛ لجهالة حشرج بن زياد، أخرجه أحمد (٢٢٣٣٢)، وأبو داود (٢٧٢٩)، والنسائي في الكبرى (٨٨٧٩)، والبيهقي ٦/ ٣٣٢.

حضرت حشرج بن زیاد رحمہ اللہ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئیں، رسول اکرم 5 کو خبر ملی تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کس کام کی وجہ سے تم جنگ میں نکلی ہو؟ ہم نے آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار دیکھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم جنگ میں شریک ہوئیں ہیں ہمارے پاس دوائی ہے جس سے زخمیوں کو دواء دیں گے اور تیر پکڑائیں گے اور ستو ملا پانی پلائیں گے اور بالو کی رسی بنائیں گے جس سے اللہ کے راستہ میں مدد حاصل کی جائے گی حضور 5 نے ہم سے فرمایا: ٹھہری رہو پھر جب خیبر فتح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی اسی طرح حصہ دیا جس طرح مردوں کو دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35902]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35902، ترقيم محمد عوامة 34339)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34340 ترقیم الشثری: -- 35903
٣٥٩٠٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد بن علي عن يزيد بن هرمز قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يساله عن النساء: هل كن يحضرن مع رسول الله ﷺ الحرب؟ وهل كان يضرب لهن بسهم؟ قال يزيد: كتبت كتاب ابن عباس إلى نجدة: قد كن يحضرن مع رسول الله ﷺ، فاما ان يضرب لهن بسهم، فلا وقد كان يرضخ لهن (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه مسلم (١٥١٢)، وأحمد (٣٢٩٩).
حضرت یزید بن ہرمز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ کیا خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں اور غنیمت میں ان کو حصہ ملتا تھا؟ حضرت یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف سے نجدہ کو لکھا کر خواتین رسول اکرم 5 کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں، باقی ان کو الگ حصہ نہ ملتا تھا، ان کو تھوڑا سا عطیہ دیا جاتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35903]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35903، ترقيم محمد عوامة 34340)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34341 ترقیم الشثری: -- 35904
٣٥٩٠٤ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن الاسود بن قيس قال: حدثني سعيد بن (عمرو) (١) القرشي ان ام كبشة امراة من بني عذرة عذرة قضاعة قالت: يا رسول الله ائذن لي ان اخرج في جيش كذا وكذا قال: لا، قلت: يا ⦗٥٢٥⦘ رسول الله إني لست اريد ان اقاتل، إنما اريد ان اداوي الجريح والمريض، او اسقي المريض، فقال: لولا ان (تكون) (٢) سنة ويقال: فلانة خرجت، لاذنت لك ولكن اجلسي (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (عمر).
(٢) في [أ]: (يكون).
(٣) مرسل، سعيد بن عمر تابعي، أخرجه أبو يعلى كما في المطالب العالية (٢٠٢٧)، وابن سعد ٨/ ٣٠٧، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني (٣٤٧٣)، والطبراني ٢٥/ (٤٣١).

حضرت سعید بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عذرہ کی خاتون ام کبشہ نے حضور 5 سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دے دیں کہ میں فلاں فلاں لشکر میں ساتھ جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول 5 میں لڑنے کے ارادے سے نہیں جا رہی میں مریضوں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریض کو پانی پلانے کے ارادہ سے جانا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ عادت نہ بن جاتی اور کہا جاتا کہ فلاں خاتون جہاد میں گئی تھی تو میں تجھے اجازت دے دیتالیکن بیٹھی رہ، (ساتھ مت جا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35904]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35904، ترقيم محمد عوامة 34341)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34342 ترقیم الشثری: -- 35905
٣٥٩٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عكرمة ان صفية كانت مع النبي ﷺ يوم الخندق (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عكرمة تابعي.
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق والے دن حضرت صفیہ حضور 5 کے ساتھ تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35905]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35905، ترقيم محمد عوامة 34342)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34343 ترقیم الشثری: -- 35906
٣٥٩٠٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن العوام بن (مراجم) (١) عن خالد بن سيحان (قال: شهدت) (٢) تستر مع ابي موسى اربع نسوة او خمس منهن ام (مجزاة) (٣) بن ثور (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (مزاحم).
(٢) سقط من: [أ، ب]، وفي [هـ]: (قال: شهد).
(٣) في [أ، ب]: (محرام).
(٤) مجهول؛ لجهالة خالد بن سيحان، أخرجه أحمد كما في مسائل صالح ٢/ ٣٥٣، والبخاري في التاريخ الكبير ٣/ ١٥٣.

حضرت خالد بن سیحان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چار یا پانچ خواتین تستر میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئیں جن میں ام مجزاۃ بن ثور رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35906]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35906، ترقيم محمد عوامة 34343)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34344 ترقیم الشثری: -- 35907
٣٥٩٠٧ - حدثنا خالد بن حرملة العبدي عن المؤثرة بنت (زيد) (١) اخت ابي نضرة ان ابا نضرة غزا بامراته زينب إلى خراسان.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أربك)، وانظر: التاريخ الكبير ٣/ ١٤٤، والجرح والتعديل ٣/ ٣٢٥.
حضرت موثرہ بنت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو نضرہ اپنی اہلیہ زینب کے ساتھ خراسان کی طرف جہاد میں شریک ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35907]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35907، ترقيم محمد عوامة 34344)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34345 ترقیم الشثری: -- 35908
٣٥٩٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا الوليد بن عبد الله بن جميع قال: حدثتني جدتي و (عبد الرحمن) (١) بن خلاد الانصاري عن ام ورقة بنت نوفل ان النبي ﷺ لما ⦗٥٢٦⦘ غزا بدرا قالت: قلت: يا رسول الله ائذن لي في ان اغزو معك، اداوي جرحاكم وامرض مرضاكم لعل الله يرزقني شهادة، قال:"قري في بيتك فإن الله يرزقك الشهادة"، قال: فكانت تسمى الشهيدة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن خلال وجدة الوليد، أخرجه أحمد (٢٧٢٨٢)، وأبو داود (٥٩٥)، وابن خزيمة (١٦٧٦)، وابن سعد ٨/ ٤٥٧، والبيهقي ١/ ٤٠٦، والحاكم ١/ ٢٠٣، والطبراني ٢٥/ (٣٢٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٦٦)، وابن الجارود (٣٣٣)، والدارقطني ٣/ ١١٤.

حضرت ام ورقۃ بنت نوفل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کیلئے روانہ ہونے لگے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اپنے ساتھ جہاد پر جانے کی اجازت عنایت فرما دیں، میں آپ کے زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی شاید کہ اللہ مجھے بھی شہادت کی موت نصیب فرما دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنے گھر میں رہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھے شہادت (کا ثواب) دے دیا ہے، فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میرا نام شہیدہ پڑگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35908]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35908، ترقيم محمد عوامة 34345)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34346 ترقیم الشثری: -- 35909
٣٥٩٠٩ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن الحسن: انه كان يكره ان تخرج النساء إلى شيء من هذه الفروج -يعني الثغور.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ ناپسند فرماتے تھے کہ خواتین سر حدات وغیرہ کی طرف بڑھنے کیلئے جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35909]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35909، ترقيم محمد عوامة 34346)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں