🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ
باب: موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 756 ترقیم الرسالہ : -- 767
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ثنا أبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بِهَذَا، وَقَالَ:" أَصَبْتَ السُّنَّةَ"، وَلَمْ يَذْكُرْ بَيْنَ يَزِيدَ، وَعَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَحَدًا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ: تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔ اس روایت کی سند میں یزید اور علی نامی راوی کے درمیان کسی اور کا تذکرہ نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 767]
ترقیم العلمیہ: 756
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 251، 252، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 646، 647، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1351، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 756، 757، 766، 767»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 757 ترقیم الرسالہ : -- 768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابًا لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلا يَخْلَعْهُمَا؟ قَالَ: نَعَمْ" .
عمر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن یسار کی کتاب میں پڑھا جو عطاء بن یسار کے پاس تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں، سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا۔ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آدمی ہمیشہ اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، ان دونوں کو اتارے ہی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 768]
ترقیم العلمیہ: 757
تخریج الحدیث: «إسناد صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 768، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27469»
«إسناد صحيح لا علة فيه، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (2 / 267) _x000D_»

الحكم على الحديث: إسناد صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 758 ترقیم الرسالہ : -- 769
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلانُ ، قَالا: نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لَوْ كَانَ دِينُ اللَّهِ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْخُفَّيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاهُ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا" . وَاللَّفْظُ لابْنِ مَخْلَدٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: اگر اللہ کے دین کے احکام رائے کے مطابق ہوتے تو موزوں کا نیچے والا حصہ مسح کرنے کا اوپر والے حصے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہوتا، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ روایت کے الفاظ ابن مخلد نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 769]
ترقیم العلمیہ: 758
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 200، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 662، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 118، 119، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 162، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 356، 1407، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 769، 770، 783، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 748، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 47، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 346، 613، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 788»
«قال ابن حجر: رجال إسناده ثقات، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 225)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 759 ترقیم الرسالہ : -- 770
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، نا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْخُفَّيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا" .
عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ فرمایا کہ: میں یہ سمجھتا ہوں کہ موزوں کا نیچے والا حصہ اوپر والے حصے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اوپر والے حصے پر مسح کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 770]
ترقیم العلمیہ: 759
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 200، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 662، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 118، 119، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 162، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 356، 1407، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 769، 770، 783، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 748، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 47، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 346، 613، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 788»
«قال المبارکفوری: صح عن علي بإسناد صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 98)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں