سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
74. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ
باب: موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
ترقیم العلمیہ : 746 ترقیم الرسالہ : -- 757
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ، بِمِصْرَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ:" مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِي رِجْلَيْكَ؟"، قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ:" فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا؟"، قُلْتُ: لا، قَالَ:" أَصَبْتَ السُّنَّةَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَهُوَ صَحِيحُ الإِسْنَادِ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں جمعہ کے دن مدینہ منورہ جانے کے لیے شام سے روانہ ہوا اور جمعہ کے دن ہی مدینہ منورہ پہنچا۔ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ: ’تم نے اپنے پاؤں میں موزے کب سے پہنے ہیں؟‘ میں نے جواب دیا کہ: ’گزشتہ جمعہ کے دن۔‘ انہوں نے دریافت کیا کہ: ’کیا تم نے انہیں اتارا تھا؟‘ میں نے جواب دیا کہ: ’نہیں!‘ تو انہوں نے فرمایا کہ: ’تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔‘“ شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں کہ اس کی سند مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 757]
ترقیم العلمیہ: 746
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 646، 647، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1351،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 756، 757، 766، 767، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 738»
«قال الدارقطني: صحيح الإسناد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 175)»
«قال الدارقطني: صحيح الإسناد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 175)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 747 ترقیم الرسالہ : -- 758
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا رَوْحٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالا: نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " كَانَ لا يُوَقِّتُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقْتًا" .
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ: ”انہوں نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میعاد مقرر نہیں کی۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 758]
ترقیم العلمیہ: 747
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1354، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 758، 759، 760، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 242، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 763، 804»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 748 ترقیم الرسالہ : -- 759
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ الْمُعَدَّلُ ، بِالرَّمْلَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" لَيْسَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقْتٌ امْسَحْ مَا لَمْ تَخْلَعْ" .
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ: ”موزوں پر مسح کرنے کی کوئی میعاد نہیں ہے، تم اس وقت تک مسح کرو جب تک تم انہیں اتار نہ دو۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 759]
ترقیم العلمیہ: 748
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1354، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 758، 759، 760، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 242، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 763، 804»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 749 ترقیم الرسالہ : -- 760
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا شُجَاعٌ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ عَلَى الْخُفَّيْنِ مَا لَمْ يَخْلَعْهُمَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: ”مسافر شخص موزوں پر اس وقت تک مسح کرتا رہے جب تک وہ انہیں اتار نہیں دیتا۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 760]
ترقیم العلمیہ: 749
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1354، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 758، 759، 760، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 242، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 763، 804»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 750 ترقیم الرسالہ : -- 761
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ. حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ"، قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا، وَلا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلا غَائِطٍ وَلا نَوْمٍ وَلا نَخْلَعَهُمَا إِلا مِنْ جَنَابَةٍ"، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ، مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً، لا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ" .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ: ”میں علم کے حصول کے لیے آیا ہوں۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ زر نے کہا کہ: ”میں اس لیے آیا ہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں۔“ تو انہوں نے جواب دیا کہ: ”میں اس لشکر میں شامل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر بھیجا تھا اور ہمیں ہدایت کی تھی کہ تم اپنے موزوں پر مسح سفر کے دوران تین دن تک اور قیام کے دوران ایک دن اور ایک رات تک کر سکتے ہو، جب کہ ہم نے انہیں باوضو حالت میں پہنا ہو اور ہم انہیں پیشاب کرنے، پاخانہ کرنے یا سونے کے بعد اٹھ کر وضو کرتے ہوئے نہیں اتاریں گے، ہم انہیں صرف جنابت کی حالت میں اتاریں گے۔“ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لیے کھلا ہوا ہے، جس کی چوڑائی ستر برس کی مسافت جتنی ہے۔ یہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اس کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 761]
ترقیم العلمیہ: 750
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 4، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 17، 193، 196، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 85، 562، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 339، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 126، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 96، 2387، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 226، 478، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 480، 761، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 905، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 198، 250، 251، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18375»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 751 ترقیم الرسالہ : -- 762
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ خُزَيْمَةَ النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: ذَكَرْتُ لِلْمُزَنِيِّ خَبَرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ هَذَا، فَقَالَ لِي: حَدَّثَ بِهِ أَصْحَابُنَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّافِعِيِّ حُجَّةٌ أَقْوَى مِنْ هَذَا، يَعْنِي قَوْلَهُ" إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ".
علی بن ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے شیخ ابوبکر بن خزیمہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے عبدالرزاق کی روایت امام مزنی سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہمارے ساتھیوں نے بھی یہ روایت بیان کی ہے، کیونکہ امام شافعی کی اس سے مستند دلیل اور کوئی نہیں ہے۔“ مصنف فرماتے ہیں کہ یعنی روایت کے یہ الفاظ کہ: ”جب ہم نے باوضو حالت میں انہیں ان میں داخل کیا ہو۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 762]
ترقیم العلمیہ: 751
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 4، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 17، 193، 196، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 85، 562، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 339، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 126، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 96، 2387، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 226، 478، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 480، 761، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 905، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 198، 250، 251، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18375»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 752 ترقیم الرسالہ : -- 763
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَيُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَمْسَحُ أَحَدُنَا عَلَى خُفَّيْهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ" .
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس شخص نے ان دونوں کو باوضو حالت میں داخل کیا ہو۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 763]
ترقیم العلمیہ: 752
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 182، 203، 206، 363، 388، 2918، 4421، 5798، 5799، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 274، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 99، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 50، 190، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1326، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 489، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 17، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 20، 98، 100، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 331، 389، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 775، 776، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 369، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 737، 738، 739، 740،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18421»
ترقیم العلمیہ : 753 ترقیم الرسالہ : -- 764
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ قَالُوا: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، ثنا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً" .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ہمیں موزوں پر مسح کرنے کی ہدایت کی تھی: ”مسافر شخص کو تین دن تین راتوں تک اور مقیم کو ایک دن ایک رات تک کے لیے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 764]
ترقیم العلمیہ: 753
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1325، 1326، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 764، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24628، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2757، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1864، 38166، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 520، 521، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 69، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1145»
«قال البخاري: هذا حديث حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (2 / 227)»
«قال البخاري: هذا حديث حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (2 / 227)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 754 ترقیم الرسالہ : -- 765
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ عُمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ، وَأَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ:" يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ:" وَيَوْمَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَثَلاثًا"، قَالَ: ثَلاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا بَدَا لَكَ" . هَذَا الإِسْنَادُ لا يُثْبَتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اخْتِلافًا كَثِيرًا قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ، مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
عبادہ بن نسئی، ابی کے حوالے سے جو ابن عمارہ ہیں، یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمارہ کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں اپنے موزوں پر مسح کر لوں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایک دن تک؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کر سکتے ہو۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! دو دن تک؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کر سکتے ہو۔“ اور تین دن تک بھی۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! تین دن تک بھی؟“ یہاں تک کہ انہوں نے سات دن تک پوچھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنا تمہیں مناسب لگے۔“ اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ یحییٰ بن ایوب نامی راوی سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے، جو میں نے کسی اور مقام پر ذکر کیا ہے۔ اس روایت کے راوی عبدالرحمن، محمد بن یزید، اور ایوب بن قحطن، سب مجہول ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 765]
ترقیم العلمیہ: 754
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 611، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 158، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 557، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1346، 1347، 1348، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 765، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1882»
«قال الدارقطني: هذا الإسناد لا يثبت وقد اختلف فيه على يحيى بن أيوب اختلافا كثيرا قد بينته في موضع آخر قال وعبد الرحمن بن يزيد وأيوب بن قطن مجهولون كلهم، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 41)»
«قال الدارقطني: هذا الإسناد لا يثبت وقد اختلف فيه على يحيى بن أيوب اختلافا كثيرا قد بينته في موضع آخر قال وعبد الرحمن بن يزيد وأيوب بن قطن مجهولون كلهم، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 41)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 755 ترقیم الرسالہ : -- 766
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بِفَتْحِ دِمَشْقَ، قَالَ: وَعَلَيَّ خُفَّانِ، فَقَالَ لِي عُمَرُ:" كَمْ لَكَ يَا عُقْبَةُ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ؟"، فَتَذَكَّرْتُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ: مُنْذُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ، قَالَ:" أَحْسَنْتَ، وَأَصَبْتَ السُّنَّةَ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ دمشق کی فتح کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے موزے پہنے ہوئے تھے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اے عقبہ! تم نے کتنے دنوں سے اپنے موزے نہیں اتارے؟“ تو مجھے یاد آیا کہ: ”میں نے پچھلے جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک پہنے ہوئے تھے۔“ میں نے بتایا: ”آٹھ دنوں سے۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ: ”تم نے ٹھیک کیا اور سنت کے مطابق کیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 766]
ترقیم العلمیہ: 755
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 251، 252، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 646، 647، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1351، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 756، 757، 766، 767»